معاشرت - نکاح

india

سوال # 168008

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام ان مسواکوں کے بارے میں جو ناقابل استعمال ہو جاتی ہیں ان کا کیا کیا جائے ان کو جلا دیا جائے ، یا کہیں ڈال دیا جائے ، ہم نے سنا ہے کہ مسواک کو ادھر ادھر نہیں ڈالنا چاہیے ورنہ جنون کی بیماری لگ سکتی ہے ۔ ایسا صحیح ہے جواب سے نوازیں۔

Published on: Jan 24, 2019

جواب # 168008

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:419-362/sd=5/1440



علامہ شامینے حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ کا قول نقل کیا ہے کہ مسواک جہاں بھی رکھی جائے ، کھڑی کرکے رکھی جائے ، ورنہ جنون کی بیماری لگ سکتی ہے ۔ اھ قال الحصکفی : وَلَا یَضَعُہُ بَلْ یَنْصِبُہُ، وَإِلَّا فَخَطَرُ الْجُنُونِ قُہُسْتَانِیٌّ۔قال ابن عابدین : (قَوْلُہُ: وَإِلَّا فَخَطَرُ الْجُنُونِ) فَإِنَّہُ یُرْوَی عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ قَالَ: مَنْ وَضَعَ سِوَاکَہُ بِالْأَرْضِ فَجُنَّ مِنْ ذَلِکَ فَلَا یَلُومَنَّ إلَّا نَفْسَہُ، حِلْیَةٌ عَنْ الْحَکِیمِ التِّرْمِذِیِّ۔ ( الدر المختار مع رد المحتار : ۱۱۵/۱، کتاب الوضوء ، ط: دار الفکر، بیروت )لیکن ناقابل استعمال ہونے کی صورت میں مسواک ادھر ادھر ڈالنے سے جنون کی بیماری کا لگنے کا ذکر کسی کتاب میں نہیں ملا۔بہرحال! مسواک چونکہ ایک محترم چیز ہے ، اس لیے جب وہ نا قابل استعمال ہوجائے ، تو اسے کسی پاک جگہ ڈال دیاجائے ، کچرے وغیرہ میں ڈالنا اچھا نہیں ہے ۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات