معاشرت - نکاح

Bangladesh

سوال # 166499

ایک لڑکا نے ایک لڑکی کوپہلے نکاح کیا اپنی والدین کے بغیر اپنے دوست کو گواہ بنا کر پھر اسی لڑکی کو دو بارہ نکاح کیا اپنے والدین کے ساتھ بنا کوئی طلاق کے جس کو ہم ارینج مریج کہتے ہیں ، کیا یہ طریقہ جائز ہے ؟ اگر جائز ہے تو کیسے ؟ ذراہ تفصیل سے بتائیں دلائل کے ساتھ۔

Published on: Dec 17, 2018

جواب # 166499

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 156-222/SN=4/1440



سوال میں یہ وضاحت نہیں ہے کہ پہلی بار جب نکاح کیا تھا، اس وقت گواہ کتنے تھے دو یا ایک؟ اگر دو گواہ تھے تو چونکہ یہ نکاح شرعاً صحیح ہوگیا؛ اس لئے دوبارہ اسی لڑکی سے نکاح کرنے کی ضرورت نہ تھی ، بہرحال اگر والدین کو خوش کرنے نیز لوگوں کے درمیان اظہار کے لئے مصلحةً ایسا کیا تو شرعاً یہ ناجائز بھی نہیں؛ لیکن اگر پہلی بار نکاح میں صرف ایک گواہ تھا یعنی لڑکا، لڑکی اور ایک دوست کی موجودگی میں نکاح ہوا تھا تو چونکہ وہ نکاح صحیح نہیں؛ بلکہ فاسد تھا؛ اس لئے دوبارہ جو نکاح کیا گیا وہ ضروری تھا، اس نکاح سے پہلے اگر لڑکے اور لڑکی نے تعلق زوجیت قائم کیا تو وہ جائز نہ تھا، اس سے توبہ واستغفار ضروری ہے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات