معاشرت - نکاح

Pakistan

سوال # 165120

مفتی صاحب! ایک مسئلہ ہمیں درپیش آگیا ہے، وہ اس طرح کہ میری والدہ کی دو شادیاں ہوئی تھیں۔ پہلے والے شوہر سے ایک بیٹی ہے اور دوسرے شوہر سے ۶/ بیٹے ہیں۔ پہلے شوہر سے جو بیٹی ہے اس کی ۳/ بیٹیاں ہیں، مطلب ہماری ناسگی بھانجیاں، اب ایک ملا صاحبسے میں نے فتوی لیا تو انہوں نے کہا کہ آپ کی اِس نا سگی بھانجیوں سے نکاح جائز ہے۔ تو تقریباً آٹھ مہینے ہوگئے کہ میں نے اس سے شادی کیا کیونکہ اس مولوی نے مجھ سے کہا کہ نکاح جائز ہے۔ اب مجھے ایک دوست نے کہا کہ اس مفتی نے جھوٹ بولا ہے اور جلدی اپنی بیوی کو طلاق دو یہ نکاح جائز نہیں، حرام ہے۔ تو اس نے مجھے کہا کہ میں آپ سے رجوع کروں، آپ ہی مجھے کوئی حل بتائیں۔ بہت بڑے مسئلے میں ہم سب گھرے ہوئے ہیں۔ برائے مہربانی تفصیل کے ساتھ قرآن و حدیث کی روشنی میں ہمیں کوئی حل بتائیں کہ میں کیا کروں؟ ابھی واقعی ہی طلاق دوں یا نہیں؟ یہ نکاح جائز ہے یا کوئی کفارہ دوں آخر کیا کروں؟ خداکے لئے مفتی صاحب! بہت بڑے مسئلے میں گرفتار ہوں۔ اگر طلاق دیا تو سارے خاندان میں بدنام ہوجائیں گے اور کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہیں گے تو کوئی حل بتائیں اور یہ بھی بتائیں کہ یہ واقعی ہی ہماری سگی بھانجیوں کی طرح ہے یا نہیں؟ اور نکاح جائز ہے یا نہیں ؟ مطلب یہ کہ میری نا سگی بہن اور میں دونوں کی والدہ صاحبہ ایک ہی ہیں پر والد ان کے جدا ہیں۔ جس سے والدہ نے طلاق لے لی ہے اور میرے والد جدا ہیں جن کے ساتھ ابھی ہم سب رہتے ہیں تو تفصیل سے بتائیں کہ میں اب کیا کروں؟

Published on: Oct 28, 2018

جواب # 165120

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:5-113/L=2/1440



بنات الأخت(بہن کی لڑکی) یہ تینوں قسم عینی (ماں باپ شریک بہن )،علاتی (باپ شریک بہن) اور اخیافی( ماں شریک بہن )تینوں کوشامل ہے اور تینوں طرح کی بہنیں یا ان کی بیٹیوں سے نکاح حرام ہے ؛اس لیے آپ کے دوست نے جو مسئلہ بتایا ہے وہ صحیح اور درست ہے ،آپ فوراً علیحدگی اختیار کرلیں اور بیوی کو متارکت کے الفاظ مثلاً:میں نے تجھے چھوڑدیا یا تیراراستہ صاف کردیا یا طلاق دیدیا وغیرہ کے الفاظ کہہ کر اس کو اپنی زوجیت سے نکال دیں۔ وبنتہا لقولہ تعالی: بنات الأخت․(وابنة أخیہ )لأب وأم أولأحدہما لقولہ تعلی وبنات الأخ․(مجمع الأنہر:۱/۴۷۶)



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات