عبادات - جمعہ و عیدین

India

سوال # 67427

کیا ہندوستان میں رمضان کے روزے اور عید الفطر کی نماز ادا کرنے کے لیے سعودی عرب کے کلینڈ پر عمل کرنا بہترہے ؟اس کا مطلب یہ ہوگا کہ رمضان اور عید کی نماز کے لئے رویت ہلال کو نظر انداز کرنا بہترہے اور صرف سعودی عرب کے مطابق عمل کیا جائے؟

Published on: Aug 3, 2016

جواب # 67427

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa ID: 1113-1094/N=10/1437



محققین متاخرین کے نزدیک راجح اور مفتی بہ یہ ہے کہ ممالک بعیدہ میں اختلاف مطالع واقع اورمعتبر ہے، اور سعودی عربیہ ہندوستان کے اعتبار سے ممالک بعیدہ میں آتا ہے؛ کیوں کہ عام طور پر ہندوستان اور سعودی عربیہ کے درمیان چاند کی تاریخ میں ایک دن کا فرق رہتا ہے؛ اس لیے ہندوستان میں سعودی عربیہ کی رویت یا کلینڈر کے مطابق عید اور بقر عید کرنا اور رمضان کے روزے وغیر رکھنا درست نہیں، ہندوستان والے اپنے ملک کی رویت کے مطابق ہی عید اور بقر عید کریں گے اور رمضان کے روزے وغیرہ رکھیں گے، وحجة من یعتبر اختلاف المطالع في الصوم والفطر حدیث کریب ہٰذا (أي حدیث الباب) ، قال الشوکاني: وجہ الاحتجاج بہ أن ابن عباس رضي اللّٰہ عنہما لم یعمل بروٴیة أہل الشام، وقال في آخر الحدیث: ہٰکذا أمرنا رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم، فدل ذٰلک علی أنہ قد حفظ من رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم أنہ لا یلزم أہل بلد العمل برؤیة أہل بلد آخر … واعلم أن الحجة إنما ہي في المرفوع من روایة ابن عباس … وہو ما أخرجہ الشیخان وغیرہما بلفظ: لا تصوموا حتی تروا الہلال … فإن غمّ علیکم فأکملوا العدة ثلاثین … ولو توجّہ الإشارة في کلام ابن عباس إلی عدم لزوم رؤیة أہل بلد لأہل بلد آخر لکان عدم اللزوم مقیدًا بدلیل العقل، وہو أن یکون بین القطرین من البعد ما یجوز معہ اختلاف المطالع (فتح الملہم شرح الصحیح لمسلم ۳: ۱۱۳ ط: رشیدیة) ، الأشبہ أن یعتبر لأن کل قوم مخاطبون بما عندہم، وانفصال الہلال عن شعاع الشمس یختلف باختلاف الأقطار (تبیین الحقائق ۲: ۱۶۵، ط: مکتبة زکریا دیوبند) ، أن عدم عبرة اختلاف المطالع إنما ہو في البلاد المتقاربة لا البلاد النائیة الخ، أقول: لابد من تسلیم قول الزیلعي، وإلا فیلزم وقوع العید یوم السابع والعشرین، أو الثامن والعشرین، أو یوم الحادي والثلا ثین، أو الثاني والثلاثین۔ (العرف الشذي علی ہامش الترمذي ۱: ۱۴۹، امداد الفتاویٰ ۲: ۱۰۸) ، ہٰذا إذا کانت المسافة بین البلدین قریبة لا یختلف فیہا المطالع، فأما إذا کانت بعیدة فلا یلزم أحد البلدتین حکم الآخر؛ لأن مطالع البلاد عند المسافة الفاحشة تختلف، فیعتبر في أہل کل بلد مطالع بلدہم دون البلد الآخر (بدائع الصنائع ۲: ۲۲۴-۲۲۵) ، وقیل: یختلف ثبوتہ باختلاف المطالع، واختارہ صاحب التجرید کما إذا زالت الشمس عند قوم وغربت عند غیرہم، فالظہر علی الأولین لا المغرب لعدم انعقاد السبب في حقہم (مراقي الفلاح، ص ۳۵۹) ، أہل بلدة إذا راوٴوا الہلال، ہل یلزم في حق کل بلد؟ اختلف فیہ، فمنہم من قال: لا یلزم الخ، وفي القدوري: إذا کان بین البلدتین تفاوت لا یختلف المطالع لزم حکم أحد البلدتین البلدة الأخری، فأما إذا کان تفاوت یختلف المطالع لم یلزم حکم أحد البلدتین البلدة الأخری (الفتاویٰ التاتارخانیة ۳: ۳۶۵) ۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات