عبادات - جمعہ و عیدین

India

سوال # 166082

ایک بستی ہے جس کی آبادی 2400 ہے جس میں مسلم آبادی 2200 ہے اس میں بڑی چھوٹی پکی گلیاں سبھی ہیں جس میں سے بڑے اور چھوٹے واہن سب نکل سکتے ہیں اور تین مسجد ہیں اور ایک عیدگاہ ہے جس میں عید کی نماز بھی ہوتی ہے اور ضرورت زندگی کا تقریبا سبھی سامان ملتا ہے اور وہاں بڑھئی لوہار مزدور کسان ہر قسم کے لوگ رہتے ہیں ۔اور 1976 تک وہاں جمعہ بھی ہوتا تھا مگر کچھ لوگوں کے کہنے پر یہ کہ کر بند کروادیا کہ شرطیں نہیں پائی جاتیں،کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام کیا اس بستی میں جمعہ قائم کر سکتے ہیں؟

Published on: Oct 31, 2018

جواب # 166082

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 216-136/B=2/1440



ابھی چند سال اور صبر کیجئے۔ ابھی آپ کے یہاں کی آبادی کم ہے۔ جمعہ کے جواز اور بستی کے مثل قصبہ ہونے کے لئے کم از کم تین چار ہزار کی آبادی ہونی چاہئے۔ جب تین ہزار تک آدمی پہونچ جائے تو دو مفتیان کرام کو بلاکر اپنی بستی کا معائنہ کرالیں۔ معائنہ کے بعد جب وہ حضرات قریہ کبیرہ مثل قصبہ ہونے پر مطمئن ہو جائیں اور جمعہ کا فیصلہ کریں اس کے بعد جمعہ پڑھنا شروع کریں۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات