عبادات - جمعہ و عیدین

India

سوال # 164245

عرض یہ ہے کہ دلی کے شہر پرانی دلی میں ایک مسجد ہے جس کا نام مسجد مفتی کفایت اللہ (رحمة اللہ علیہ ) ہے۔ دریا گنج کے اطراف میں میں ہے۔ اس مسجد میں جمعہ کی نماز نہیں ہوتی۔ میں نے مسجد کے امام صاحب سے پوچھا کہ یہاں جمعہ کیوں نہیں ہوتا، یہ تو شہر ہے، اور قریب میں بہت ساری مسجدیں بھی ہیں جن میں جمعہ ہوتا ہے اورلوگ بھی کثیر تعداد میں ہوتے ہیں، تو امام صاحب نے کہا یہ صحیح تھوڑی ہے کہ ہر مسجد میں جمعہ ہو۔ جمعہ تو جامع مسجد میں ہونا چاہئے تاکہ اس سے مسلمانوں کی تعداد کا پتہ چلے۔ اور یہ جو ہر مسجد میں جمعہ کرنے لگے ہیں یہ ٹھیک نہیں ہے، امام صاحب نے مجھے یہ جواب دیا۔ وہاں جمعہ کے دن بھی ظہر کی نماز ہوتی ہے۔ کیا ایسا کرنا صحیح ہے یا غلط؟
مہربانی کرکے جلد سے جلد جواب عنایت فرمائیں ۔

Published on: Sep 8, 2018

جواب # 164245

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:1242-1074/N=12/1439



یہ بات تو صحیح ہے کہ شہر یا قصبہ کی چھوٹی، بڑی ہر ہر مسجد میں جمعہ کی نماز ادا کرنا ضروری نہیں ہے، اگر شہر کی چند بڑی مساجد میں جمعہ کی نماز ادا کی جاتی ہے اور وہ سب نمازیوں کے لیے کافی ہوجاتی ہیں تو بلا وجہ ہر ہر مسجد میں جمعہ قائم کرنے کی ضرورت بھی نہیں؛ البتہ اگر مسجد مفتی کفایت اللہ (جو شہر دہلی میں دریا گنج کے اطراف میں واقع ہے) میں عام دنوں کی طرح جمعہ کے دن بھی ظہر کی نماز باجماعت ہوتی ہے تو یہ ہرگز درست نہیں، سخت مکروہ وناجائز ہے؛ بلکہ جن مساجد میں جمعہ نہیں ہوتا، جمعہ کے دن جمعہ کے وقت وہ مساجد بند کردینی چاہیے؛ تاکہ جمعہ کے دن وہاں ظہر کی نماز باجماعت نہ ادا کی جاسکے۔



وکرہ تحریما لمعذور ومسجون ومسافر أداء ظھر بجماعة في مصر قبل الجمعة وبعدھا لتقلیل الجماعةوصورة المعارضة وأفاد أن المساجد تغلق یوم الجمعة إلا الجامع، وکذا أھل مصر فاتتھم الجمعة فإنھم یصلون الظھر بغیر أذان ولا إقامة ولا جماعة (الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الصلاة، باب الجمعة، ۳: ۳۲، ۳۳، ط: مکتبة زکریا دیوبند)۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات