متفرقات - اسلامی نام

India

سوال # 171520

کیا فرماتے ہیں ورثةالانبیاء اس مسئلہ میں کہ میں ام المومنین کی ایثار و فضیلت کا خیال کرتے ہوئے اپنی پہلی بیٹی نام "خدیجة الکبریٰ" رکھا ہوں اور اب کی بار اگر لڑکی ہو تو "ماریہ عائشہ" یا "ماریہ صدیقہ" رکھنا چاہتاہوں( یعنی دو دو ناموں کو ملا کر ایک نام بنا کے ) دونوں ناموں میں کونسا نام معنوی و لفظی اعتبار سے درست ہوگا اور میرا رجحان زیادہ تر "ماریہ عائشہ" کی طرف ہی ہورہا ہے چونکہ "ماریہ" ام المومنین کا نام ہے مگر معاشرہ میں بہت ہی کم سنائی دیتا ہے میں اس نام کو عوام میں لانا چاہتا ہوں اور یہ بتانا چاہتا ہوں کہ یہ نام رکھنا برا نہیں ہے اور اس نام( ماریہ) کے ساتھ حضرت "عائشہ" کا نام بطور فضیلت کے جوڑنا چاہا تاکہ دونوں امہات المومنین کے نام ایک ساتھ ایک ہی عنوان پر جمع ہوجائیں اور برکتیں بھی حاصل ہوں ( رضی اللہ عنھن) اور اگر لڑکا ہوتو محمد غضیف محی الدین رکھنا چاہتا ہوں آپ ورثة الانبیاء کی خدمت میں ادبا ادبا یہ درخواست ہے کہ اس معاملے میں میری شرعی رہنمائی فرمائیں.

Published on: Jul 3, 2019

جواب # 171520

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 1062-899/D=10/1440



(۱) ماریہ عائشہ یا ماریہ صدیقہ دونوں نام رکھنا درست ہے، آپ اپنے رجحان کے مطابق ماریہ عائشہ نام رکھ لیں بہتر ہے ۔



(۲) لڑکے کا نام محمد غضیف محی الدین رکھنا بھی درست ہے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات