متفرقات - اسلامی نام

PAKISTAN

سوال # 168970

میری خواہش تھی کہ میں اپنے بیٹے کا نام محمد رکھتا لیکن بہت سارے احباب نے کہا کہ ادب کا تقاضہ ہے صرف محمد نا رکھا جائے بلکہ محمد کے ساتھ کوئی نام ملایا جائے ،میں نے پوچھنا ہے کہ محمد عوف نام رکھا جا سکتا ہے ؟ اور عوف کے کیا معنی ہے ، صرف محمد رکھنے کے حوالے سے بھی رہنمائی فرما دیں۔
خیر واحسن الجزاء فی الدارین

Published on: Mar 6, 2019

جواب # 168970

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:591-475/sn=6/1440



”محمد“ نام رکھنا بلا کراہت درست ہے ، اس میں کوئی بے ادبی کی بات نہیں ہے ، بس پکارتے وقت اسے بگاڑ کر نہ پکارنا چاہئے ؛ اس لئے آپ اپنی خواہش کے مطابق ”محمد“ نام تجویز کر سکتے ہیں؛ باقی اگر ”محمد عوف“رکھنا چاہیں تو یہ بھی رکھ سکتے ہیں، ”عوف“متعدد صحابہ کرام کا نام رہاہے ۔ (دیکھیں: اسد الغابة)،اور لغت میں اس کا معنی ہے حالت ( القاموس الوحید)۔



(أحب الأسماء إلی اللہ تعالی عبد اللہ وعبد الرحمن)....وتفضیل التسمیة بہما محمول علی من أراد التسمی بالعبودیة، لأنہم کانوا یسمون عبد شمس وعبد الدار، فلا ینافی أن اسم محمد وأحمد أحب إلی اللہ تعالی من جمیع الأسماء، فإنہ لم یختر لنبیہ إلا ما ہو أحب إلیہ ہذا ہو الصواب ولا یجوز حملہ علی الإطلاق اہ. وورد " من ولد لہ مولود فسماہ محمدا کان ہو ومولودہ فی الجنة رواہ ابن عساکر عن أمامة رفعہ قال السیوطی: ہذا أمثل حدیث ورد فی ہذا الباب وإسنادہ حسن اہ(الدر المختار وحاشیة ابن عابدین (رد المحتار) 9/598،زکریا)



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات