متفرقات - اسلامی نام

India

سوال # 168080

جناب مفتیان کرام صاحب اگر کسی بچہ یا بچی کا نام ایسا رکھا گیا جو گھر والوں کو مناسب معلوم نہ ہو رہا ہو یا اس کے معنی مناسب نہ ہوں اور اس نام سے عقیقہ بھی ہو چکا ہو ، پھر بعد میں اگر ہم اس نام کو بدلنا چاہیں تو بدل سکتے ہیں یا نہیں اور کیا اس کے لیئے دوبارہ عقیقہ کرنا ضروری ہے ۔
(2) آفیہ کے معنی کیا ہیں ۔ اور کیا آفیہ مناسب نام ہے ۔

Published on: Jan 29, 2019

جواب # 168080

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 644-526/B=05/1440



(۱) اگر کسی وجہ سے بچے کا ایسا نام رکھ دیا گیا، جو اسلامی تعلیمات کے مغائر ہو، اسے بدل دینا چاہئے؛ کیونکہ بچے کے لئے اچھے نام کا انتخاب باپ کی ذمہ داری ہے، نیز نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت شریفہ یہ تھی کہ آپ برے ناموں کو بدل کر اچھا نام رکھا کرتے۔ عن عائشة: أن النبي صلی اللہ علیہ وسلم کان یغیر الإسم القبیح ۔ ترمذي: ۲/۱۱۱، ابواب الأداب، با ماجاء فی تغییر الأسماء ، ط: اتحاد۔



(۲) آفیہ کے بجائے عافیہ نام رکھیں، عافیہ کے معنی ہیں؛ تندرستی ، سکون قلب و جسم وغیرہ القاموس الوحید: ۱/۱۱۰۱، ط: حسینیہ۔



(۳) عقیقہ دوبارہ کرنے کی ضرورت نہیں۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات