متفرقات - اسلامی نام

INDIA

سوال # 156759

حضرت، میرا ایک چھوٹا بیٹاہے جس کی عمر ڈیڑھ سال ہے، میں نے اس کا نام ”ارسلان“ رکھا ہے جس کا معنی میرے حساب سے شیر کا ہوتا ہے یا یودھا کا ہوتا ہے۔ اب شروع سے ہی وہ بیمار رہتا ہے اور خاص کر اسے بہت چوٹ لگتی رہتی ہے، مجھے ڈر ہے کہ کہیں یہ اس کے نام کا اثر تو نہیں ہے؟ مہربانی کرکے مجھے صحیح راستہ بتائیں۔
کیا میں اب اس کا نام بدل سکتا ہوں؟ میں نے سوچا ہے کہ اس کا نام ”آبن“ (AABAN) یا ”اشہاز“ (ASHHAAZ) رکھوں، کیا یہ نام اچھے ہیں؟ کیا ڈیڑھ سال کے بچے کا نام بدلا جاسکتا ہے؟ ان دونوں ناموں کے کیا مطلب ہیں؟ ارسلان کا صحیح مطلب کیا ہے؟ کیا یہ صحیح نام ہے؟ کیا مجھے اس سے بدل دینا چاہئے؟ مہربانی کرکے سب صاف صاف بتائیں، جس سے اللہ بھی راضی ہو جائے اور بچے میں اچھی صفات بھی آجائیں اور وہ سلامت رہے۔

Published on: Nov 29, 2017

جواب # 156759

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 357-266/B=3/1439



ارسلان نام رکھ سکتے ہیں۔ بیٹے کا بیمار رہنا یا بار بار چوٹ لگنا اس کے نام کا اثر نہیں ہے۔ مسلمان کو ایسا وہم نہ کرنا چاہئے۔ اور ”آبن“ و ”اشہاز“ کے ساتھ نام رکھنا درست نہیں۔ آپ اگر بیٹے کا نام بدلنا چاہتے ہیں تو ”انس“ یا ”اُسامہ“ رکھ دیجئے، بہت عمدہ نام ہے یہ صحابی کا نام ہے۔ 



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات