عقائد و ایمانیات - اسلامی عقائد

India

سوال # 62464

میں مہاراشٹر کے ایک چھوٹے سے گاؤں سے ہوں.اور ہمارے گاؤں میں اکثریت غیر مسلموں کی ہے اور آپسی تعلقات کی بنا پر غیر مسلم ہمیں اپنے تہواروں میں شریک کرتے ہیں ہمارے مسئلہ اسی تعلق سے ہے ھمارے گاؤں کے چند امیر گھرانوں کے لوگوں کو غیر مسلموں نے اپنے تہواروں پر بلایا اور ان سے مورتی گنپتی کی پوجا کروائی باقاعدہ آرتی اتروائی مورتی کے سامنے ان لوگوں نے تالیاں پیٹی ناچے اور انکے گیت بھی اپنی زبان سے دہرائے اس تعلق سے ان کے لے کیا مسئلہ ہے کیا وہ اسلام پر قائم ہے اور انکا نکاح برقرار ہے لہزا اسکی پوری وضاحت فرمائیں عین نوازش ہوگی؟
اور اگر کوئی تعلقات کی وجہ سے پوجا کرے اسکے لیے کیا مسئلہ ہے ؟
اس پوجا کا ویڈیو موجود ھے اگر آپ دیکھنا چاہتے ھے اکو میل کر سکتے ہیں؟

Published on: Nov 29, 2015

جواب # 62464

بسم الله الرحمن الرحيم

Fatwa ID: 102-49/D=2/1437-U

غیرمسلموں کے مذہبی امور میں شرکت کرنا ناجائز اور حرام ہے، آپسی تعلقات یا دباوٴ کی وجہ سے بھی ایسے امور کرنا قطعا جائز نہیں، قرآن پاک کا حکم ہے وَلَا تَرْکَنُوا إِلَی الَّذِینَ ظَلَمُوا فَتَمَسَّکُمُ النَّارُ یعنی اے مسلمانو! ظالموں (کافروں) کی طرف (ان کے مذہبی امور یا احوال واعمال میں مشارکت ومشابہت سے) مت جھکو کبھی تم کو دوزخ کی آگ لگ جائے۔
جب ادنی میلان اور مشابہت سے دوزخ میں جانے کا خطرہ ہے تو کفریہ اور شریکہ اعمال کرنا اور مذہبی امور انجام دینا کس قدر سنگین جرم ہوگا، جس کے نتیجہ میں ایمان سلب ہوجانا اور کفر کے گروہ میں شامل ہوجانا کوئی بعید نہیں۔ (العیاذ باللہ، ناچنا، تالیاں بجانا، گیت گانا) یہ سب غیروں کا طریقہ ہے اسلام ان کی سختی کے ساتھ مذمت کرتا ہے، احتیاطاً تجدید ایمان اور تجدید نکاح بہرحال کرلینا ضروری ہے، قطعی طور پر دائرہٴ اسلام سے خارج ہونے اور نکاح کے فسخ ہونے کا حکم کرنے کے لیے ہرہرشخص کے ان اعمال کی الگ الگ صراحت ہونی چاہیے جو اس نے انجام دیئے، بہتر ہے کہ وہ خود اپنے اعمال (جو اس نے انجام دیئے) لکھ کر سوال کرے۔

واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات