عقائد و ایمانیات - اسلامی عقائد

India

سوال # 168484

کیا شریعت میں اس بات کا حکم ہے کہ شادی شدہ بہن کو وطن کے قانون کے حساب سے حصہ دیا جائے گا؟ یوپی ایکٹ میں ہے کہ کاشت کی زمین میں شادی شدہ بیٹی کا حصہ نہیں ہوتاہے اور رہائش اور کاروبار ی جگہ (کمرشل) میں بیٹی کا حصہ ہوتاہے، لہذا، میری ایک بہن ہے جس کی شادی 2000ء میں ہوئی تھی، تو اب میں اپنی بہن کو میری والدہ کی تقریباً 60بیگھہ کاشت کی زمین میں حصہ دوں یا نہیں؟
مزید دعاؤں کی درخواست ہے۔

Published on: Feb 18, 2019

جواب # 168484

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:85-412/sd=6/1440



 شریعت کی رو سے جس طرح سارے ترکہ کے ہر ہر جزء میں سب شرعی ورثاء کا اپنا متعینہ حصہ رہتا ہے ، اسی طرح بہن( بیٹی ) کا بھی ہر طرح کی جائداد میں شرعی حصہ ہوتا ہے ، لہذا کاشت کی زمین میں بھی بیٹی کو اُس کا شرعی حصہ ملے گا، اگر آپ کی والدہ ساٹھ بیگہ زمین چھوڑ کر فوت ہوئی ہیں اور آپ ایک بھائی اور ایک بہن ہیں ، والدہ کے ورثاء میں اُس کے والدین، شوہر اور دوسری کوئی اولاد نہیں ہے ،تو یہ ساری زمین تین حصوں میں تقسیم ہوکر دو حصے بھائی کو اور ایک حصہ بہن کو ملے گا ۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات