عقائد و ایمانیات - اسلامی عقائد

India

سوال # 167839

میں نو مسلمہ ہوں، میں اسلام کو چپکے سے مانتی ہوں پر میری ایک دوست نے کہا ہے کہ جب تک جان کا خطرہ ہو انسان چپکے مان سکتا ہے پر اگر جان کا خطرہ نہیں ہو تو چپکے نہی ماننا چاہیے ۔ میرا سوال تھا کہ میرے پاس راستے ہیں اسک و نہ کرنے کے ، پر کیا میں دنیا کو دکھانے کے لئے شرک کر سکتی ہوں ، کیوں کہ اگر میں سب کے سامنے اسلام قبول کروں گی تو میرے گھر والوں کی بدنامی ہوگی، پر میری دوست کہہ رہی ہے کہ تم ساری عمر شرک کروگی اور پھر ایک کافر سے شادی کروگی جس سے تم زنا کروگی تو تمہارا ایمان ختم ہو جائے گا اور تم بھی کافر ہو جاوگی تو میں یہ جاننا چاہتی تھی میں یہ کرکے گنہگار تو ہووں گی پر میں دل میں ان چیزوں کو غلط مانوں گی تو کیا اس سے میرا ایمان بچ جائے گا؟ برائے مہربانی کتاب و سنّت سے جواب ضرور دیں۔

Published on: Jan 13, 2019

جواب # 167839

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 480-435/M=05/1440



صورت مسئولہ میں آپ اگر واقعی، اسلام میں داخل ہو چکی ہیں چاہے خفیہ طور پر ہی سہی، تو آپ کو اس پر ہر حال میں قائم رہنا چاہئے، اسلام مذہب، بلاشبہ ایک سچا اور برحق مذہب ہے ، جو شخص کفر سے تائب ہوکر صدق دل سے اسلام قبول کرلیتا ہے اس کے لئے بہت بڑی بشارت یہ ہے کہ اس کے پچھلے سارے گناہ معاف ہو جاتے ہیں ۔ صورت مسئولہ میں اگر آپ کو اسلام ظاہر کرنے کی صورت میں جان کا خطرہ ہو تو اپنے اسلام کو مخفی رکھیں، لیکن شرک کی اجازت نہیں، دنیا کو دکھانے کے لئے، ایمان جیسی عظیم دولت سے ہاتھ دھو بیٹھنا دانشمندی نہیں۔ اور کسی مسلمان کا ، کافر سے نکاح جائز نہیں، گناہ کے کام کو گناہ سمجھنا اور اس کے ارتکاب سے بچنا بھی لازم ہے۔ اللہ تعالی آپ کو ایمان و اسلام پر قائم رکھے (آمین)۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات