عقائد و ایمانیات - اسلامی عقائد

India

سوال # 167661

(۱) یاجوج ماجوج کے بارے میں جو اللہ نے بتایا ہے قرآن وحدیث کے حوالے سے وہ بتادیں، یاجوج ماجوج کب ظاہر ہوں گے، کونسا زمانہ ہوگا، دجال کے بعد یا پہلے ظاہر ہوں گے، یہ سوال اس لیے پوچھ رہاہوں کہ کس نے مجھے بتایا کہ یاجوج ماجوج آچکے ہیں، اور ان کی نشانی پوری ہوچکی ہے اور وہ دجال کی پیروی کریں گے۔
(۲) مولانا اسرار احمد کے بارے میں جاننا ہے کہ ان کے عقائد کیا تھے؟ کیا وہ اہل سنت و الجماعت سے تھے؟ ان کے بیانات سن سکتے ہیں؟

Published on: Feb 3, 2019

جواب # 167661

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:385-324/sd=5/1440



(۱)قرآن و سنت کی تصریحات سے اتنی بات تو بلاشبہ ثابت ہے کہ یاجوج و ماجوج انسانوں ہی کی قومیں ہیں اور عام انسانوں کی طرح نوح (علیہ السلام) کی اولاد میں سے ہیں کیونکہ قرآن کریم کی نص صریح ہے وَجَعَلْنَا ذُرِّیَّتَہہُمُ الْبٰقِیْنَ یعنی طوفان نوح (علیہ السلام) کے بعد جتنے انسان زمین پر باقی ہیں اور رہیں گے وہ سب حضرت نوح (علیہ السلام) کی اولاد میں ہوں گے اور جمہور محدثین و موٴ رخین ان کو یافث ابن نوح (علیہ السلام) کی اولاد قرار دیتے ہیں ،ان کے نکلنے کا وقت ظہور مہدی (علیہ السلام) پھر خروج دجال کے بعد ہوگا جبکہ عیسیٰ (علیہ السلام) نازل ہو کر دجال کو قتل کرچکیں گے ،اس سے متعلق سب سے زیادہ تفصیلی اور صحیح حدیث حضرت نواس بن سمعان رضی اللہ عنہ کی ہے جس کو صحیح مسلم اور تمام مستند کتب حدیث میں نقل کیا گیا ہے اور محدثین نے اس کو صحیح قرار دیا ہے ، اس میں خروج دجال، نزول عیسیٰ (علیہ السلام) پھر خروج یاجوج و ماجوج وغیرہ کی پوری تفصیل مذکور ہے ،دیکھیے : معارف القرآن : ۶۳۸/۵، سورہ یوسف )باقی معلومات کہ قوم یاجوج وماجوج کون سی قوم ہے ؟ اور اس وقت کہاں کہاں ہے ، اس پر نہ کوئی اسلامی عقیدہ موقوف ہے اور نہ قرآن کریم کی کسی آیت کا سمجھنا اس پر موقوف ہے ۔



(۲)ڈاکٹر اسرار احمد صاحب مسلکاً اہل حدیث تھے اور مودودی صاحب کے فیض یافتہ تھے ،ان کے بعض عقائد قرآن وحدیث اوراجماع امت کی رو سے فاسد تھے ،انھوں نے ائمہ اربعہ کے مسلک اور ان کے فقہی اختلاف کو فرقہ واریت سے تعبیر کرکے ان پر بے جا الزام عائد کیا تھا اور اس کے خلاف مستقل تحریک شروع کی تھی، جو بعد میں خود ہی ایک فرقہ بن کر رہ گئی، اس کے علاوہ ان کے بہت سے فاسد عقائد تھے ، آپ اُن کے بیانات نہ سنا کریں، اہل حق علماء کے بیانات سنیں۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات