عقائد و ایمانیات - اسلامی عقائد

India

سوال # 1655

(۱) حجر اسود کی تاریخ اور حقیقت کیا ہے؟

(۲) کیا یہ بت پرستی کے مشابہ نہیں؟ تمام جوابات مدلل اور تشفی بخش چاہئیں۔       

Published on: Sep 25, 2007

جواب # 1655

بسم الله الرحمن الرحيم

فتوی: 542/ م= 540/ م


 


حجر اسود کے متعلق ترمذی شریف کی روایت ہے: نزل الحجر الأسود من الجنة وھو أشد بیاضًا من اللبن فسودتہ خطایا بني آدم (عن ابن عباس -رضی اللہ عنہ-)اور ایک دوسری روایت عبد اللہ بن عمر -رضی اللہ عنہ- سے مروی ہے اس میں ہے: إن الرکن والمقام یاقوتتان من یاقوت الجنة طمس اللہ نورھما ولو لم یطمس نورھما لأضاء تا ما بین المشرق والمغرب (ترمذي: ج۱ ص۱۷۷) یعنی حجر اسود جنت کے یاقوت کا ایک پتھر ہے، اس کے نور کو اللہ تعالیٰ نے ختم کرکے دنیا میں اتارا ہے، اگر اس کے نور کو ختم نہ کیا جاتا تو مشرق و مغرب اس کی روشنی سے منور ہوجاتے، جس وقت اس کو اتارا کیا دودھ کی طرح بالکل سفید تھا مگر بنی آدم کی خطاوٴں نے اس کو سیاہ کردیا ہے۔


(۲) حجر اسود کو بوسہ دینا نہ بت پرستی ہے اور نہ اس کے مشابہ ہے، حجر اسود کو بوسہ محبت کی غرض سے دیا جاتا ہے، بطور عبادت و عظمت اور حاجت روا جان کر نہیں دیا جاتا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجر اسود کے قریب ہوکر فرمایا تھا: إني لأعلم إنک حجر لا تضر ولا تنفع ولولا أمرني ربي أن أقبلک ما أقبلک (ابن أبي شیبة) ترجمہ: مجھے معلوم ہے کہ تو ایک پتھر ہے نفع و نقصان پہنچانے پر قادر نہیں، میرا رب تجھے بوسہ دینے کا حکم نہ کرتا تو میں بوسہ نہ دیتا۔ اسی طرح حضرت عمر فاروق -رضی اللہ عنہ- ایک مرتبہ طواف فرمارہے تھے اس وقت کچھ نومسلم دیہاتی بھی موجود تھے، حضرت عمر -رضی اللہ عنہ- جب حجر اسود کے قریب پہنچے تو چومنے سے ذرا قبل ٹھہرگئے اور فرمایا: إني لأعلم أنک حجر ولا تضر ولا تنفع ولولا إني رأیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قبلک ما أقبلک ترجمہ: میں جانتا ہوں اور میں یقین رکھتا ہوں کہ تو ایک پتھر ہے (معبود نہیں ہے) نقصان پہنچا سکتا ہے نہ نفع، اگر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو چومتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو میں تجھے نہ چومتا۔ ان روایات سے بات بالکل واضح ہے کہ حجر اسود کو بوسہ دینا عبادت و پرستش کے طور پر نہیں ورنہ اس طرح کے خطاب کا کیا مطلب؟ حجر اسود کو بوسہ صرف جذبہٴ محبت میں دیتے ہیں، اپنی اولاد اور بیوی کو بھی بوسہ دیتے ہیں کیا انھیں معبود اور حاجت روا سمجھ کر بوسہ دیا جاتا ہے؟ ہرگز نہیں۔


واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات