عقائد و ایمانیات - اسلامی عقائد

INDIA

سوال # 156760

میں سینٹرل گورنمنٹ کا ملازم ہوں، میرے پاس پی ایف ( provident fund)فنڈ ہے جس کی وَیلو آج کی تاریخ میں نو لاکھ (900000) کے قریب ہے۔ میری بیوی کے پاس تقریباً ۱۲/ تولہ یا ۱۲۰/ گرام سونا ہے، میرے دو بیٹے ہیں اور ہم دونوں حج پر جانا چاہتے ہیں لیکن پیسے ابھی ہمارے پاس نہیں ہیں، جو سونا ہے وہ بینک میں گروی ہے جو فی ایف فنڈ ہے، ابھی ہمارا نہیں ہے، نہ ہی ہم اسے ابھی نکال سکتے ہیں۔ لہٰذا حج پر جانے کے لیے مجھے قرض لینا ہوگا، کیا میں ان حالات میں قرض لے کر حج کر سکتا ہوں؟ کیونکہ میرے پاس پیسے نہیں ہیں۔ میرے ماں باپ دونوں نے بہت پہلے ہی حج کر لیا تھا۔
مہربانی کر کے مجھے تمام تفصیلات سے آگاہ کریں حج سے متعلق۔ کس کس پر فرض ہے؟ کیا ادھارلے کر جایا جاسکتا ہے؟ وغیرہ وغیرہ

Published on: Nov 29, 2017

جواب # 156760

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 358-276/B=3/1439



ابھی آپ دونوں پر حج فرض نہیں ہے جب پی ایف کی رقم آپ کے قبضہ میں آجائے اس کے بعد حج کے لیے جائیں اور زیور گروی سے چھٹالیں اس کے بعد حج کے لیے جانے کا انتظام کریں۔ اور اگر آپ نے غیر سودی قرض لے کر حج کر لیا تو حج کا فریضہ ادا ہو جائے گا۔ 



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات