عقائد و ایمانیات - اسلامی عقائد

Pakistan

سوال # 154934

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کے میں راستے پر جا رہا تھا اور ایک فقیر نے زور سے آواز دی کے محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے واسطے دے دو یا محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر دے دو۔ (صحیح یاد نہیں)۔ اور بنا سوچے میں نے کچھ رقم اسے دے دی۔ گھر پہنچ کر خیال آیا کہ مجھے نہیں دینا چاہیے تھا کیونکہ اللہ کے نام پر دینا درست ہے ۔ باقی نہیں۔ کیا فرماتے ہیں اس اقدام کے بارے میں اور ایسی صورت میں اس عاجز کو کیا کرنا چاہئے ؟

Published on: Oct 12, 2017

جواب # 154934

بسم الله الرحمن الرحيم


5-5/N=1/1439Fatwa:



 (۱، ۲):” محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے واسطے د ے دو“ یا ”محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر دے دو“، اس کا دو مطلب ہوسکتا ہے؛ ایک یہ کہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا واسطہ ہے ، مجھے کچھ خیرات دیدو یا حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایصال ثواب کے لیے مجھ غریب کو کچھ خیرات دیدو۔ اور دوسرا مطلب یہ ہوسکتا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نیاز کے طور پر دیدو اور عام طور پر جاہل وبدعتی فقیر وں کے ذہن میں یہ دوسرا مطلب ہی ہوتا ہے اور پہلا مطلب بعید بھی ہے ؛ اس لیے اس طرح کے فقیروں کو اچھے انداز سے صحیح بات سمجھادینی چاہیے اور یہ کہنا چاہیے کہ وہ اللہ رب العزت ہی کے نام پر سوال کیا کریں، حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر نہیں، لیکن چوں کہ آپ نے اس فقیر کو خیرات اللہ کے نام پر دی ہے؛ اس لیے انشاء اللہ آپ کو کچھ گناہ نہ ہوگا۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات