معاملات - سود و انشورنس

pakistan

سوال # 174904

مفتی صاحب مسئلہ یہ ہے کہ ایک شخص کسی سنار سے سونا خریدتا ہے، اگر کچھ رقم فی الحال ادا کرے اور مبیعہ پر قبضہ کرلے اور باقی رقم اقساط میں ادا کرے تو کیا یہ جائز ہے؟ بینوا توجروا سید شاہ حسن الحسینی

Published on: Dec 1, 2019

جواب # 174904

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 376-283/B=03/1441



چونکہ آجکل کاغذی نوٹوں کے ذریعہ سونے چاندی کی خرید و فروخت ہوتی ہے اس لئے یہ بیع صرف نہیں ہے اس میں اُدھار کی گنجائش ہے، بیع کے وقت مبیع پر قبضہ کرلیا کچھ رقم فی الحال دیدی اور باقی رقم تھوڑی تھوڑی کرکے ادا کرے تو اس کی اجازت ہے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات