معاملات - سود و انشورنس

India

سوال # 171937

یہاں دہلی میں پگڑی پہ مکان ملتا ہے جس کا طریقئہ کار یہ ہے کہ جس مکان کا کرایہ مثال کے طور پر10 ہزار روپے ماہانہ ہو۔ آپ نے مکان مالک کو 5 لاکھ روپے دیے 1 سال کے لیے اب آپ اس کے مکان کا استعمال کر سکتے ہیں۔ ایک سال کے بعد جب آپ مکان خالی کریں گے تو آپ کو 5 لاکھ روپے واپس مل جائیں گے اور کوئی کرایہ بھی آپ کو نہیں دینا ہوگا- دوسرا طریقہ یہ ہے کہ آپ نے 4 لاکھ روپے پگڑی کے دیے ایک سال کے لیے اور ساتھ میں دو ہزار روپے ماہانہ کرایہ بھی آپ ادا کرتے ہیں۔ ایک سال کے بعد جب آپ مکان خالی کریں گے تو آپ کو 4 لاکھ واپس مل جائیں گے۔ تو کیا اس طریقے سے مکان کرایہ پر لینا یا دینا جائز ہوگا جس میں آپ ایک بندھی ہوئی رقم مکان مالک کو دیں اور یا تو آپ کا کرایہ ختم کر دیا جائے یا کرایہ اس بندھی ہوئی رقم کے عوض کم کر دیا جائے اور وہ بندھی ہوئی رقم مکان خالی کرتے وقت آپ کو واپس مل جائے گی- رہنمائی فرمائیں- فقیہ الزماں، دہلی انڈیا۔

Published on: Jul 17, 2019

جواب # 171937

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 1007-794/SN=11/1440



پیشگی ایک موٹی رقم دے کر بلا کرایہ یا متعارف کرایے سے کم کرایے پر مکان میں رہنے کا معاملہ کرنا شرعاً جائز نہیں ہے یعنی سوال میں مذکور دونوں طریقے شرعاً ناجائز ہیں، یہ درحقیقت قرض سے انتفاع کی شکلیں ہیں، جنہیں حدیث میں ”سود“ کہا گیا ہے، کل قرض جر منفعة فہو ربوٰ (مصنف بن أبی شیبة) ۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات