معاملات - سود و انشورنس

india

سوال # 171017

Fatwa :407-395/B=04/1440 کی روشنی میں آپ سے یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ میری ایک کمرشیل زمین ہے الحمد اللہ مالیت کے لحاظ سے کم از کم 8-9 کروڑ کی ہے ۔باقی ذاتی مکان دکان ہے۔ الحمد اللہ۔ میرے پاس ابھی کار نہیں میں یہ زمین بیچ کر با آسانی ایک ۱۰ لاکھ کی کا ر خرید سکتا ہوں جو کہ میرے فر زند کی ضد ہے اور ہماری اب ضرورت بھی ۔مگر مسئلہ یہ ہے کہ زمین اگر آج بیج دی تو مجھے دوسری جگہ زمین خریدنی ہوگی پھر زمین پر قبضہ لینا رجسڑی کرنا ۔پھر دوسری جگہ اچھی ملنا جہاں کوئی غیر ناجائز دباو نہ ڈالے ، یہ ایک مشکل کام ہے ۔ دوسرا یہ کہ اتنی بڑی رقم کیش لینے کے بعد مجھے بہت زیادہ انکم ٹیکس بھی دینا ہونگا جتنے کی گاڑی مجھے خریدنی ہے اس سے زیادہ کا ٹیکس اور اسٹیمپ ڈیوٹی اور ایجنٹ کو رقم دینا ہوگی ۔ اب میں فر زند کو سکینڈ گاڑی لینے کے لئے راضی کرتا ہوں تو وہ اب ما نتانہیں شوروم ہی لینا چا ہتا ہے میں آج دن تک سکینڈ گاڑی اس لیے لیتا ہوں کیونکہ بلا وجہ بھاری RTO tax وغیرہ سے بچا جا سکے ۔اور اولاد پر تنگی کرنا میں بھی نہیں چاہتا مگر آجکل کے مسایٴل لینڈ ڈیلرس کی دھوکہ دہی وغیرہ سے آپ واقف ہوں گے اس لیے اللہ کے فضل سے یہ جگہ پر ابھی اپنا مالکانہ حق ہے کسی کا کوئی تنازعہ نہیں ہے، الحمد اللہ اس لیے مصلحت کے تحت یہ زمین جب تک کوئی دوسری کلیر ٹایٹل زمین مل نہیں جاتی ۔ یہ زمین بیچ نہیں سکتا ۔ اب ایسی صورت میں کیا میں بینک سے لون سکتا ہوں کار خریدنے کے لیے ۔ نیز کار کا RTO ٹیکس جو ایک لاکھ اٹھارہ ہزار اور انشورنس بیالیس ہزار نو سو اسی آرہا ہے یہ رقم بینک سے ملنے والے سودسے ادا کر سکتا ہوں ۔ اور دوسرا سوال یہ کہ محترم کیا GST ٹیکس کی رقم کو بینک میں جمع شدہ رقم پر ملنے والے سود سے ادا کیا جا سکتا ہے ؟

Published on: Jul 3, 2019

جواب # 171017

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 1017-122T/B=10/1440



جی ایس ٹی کا ٹیکس یہ ایک غیر شرعی ٹیکس ہے اس کو ادا کرنے کے لئے آپ بینک کی سودی رقم دے سکتے ہیں۔



(۲) پرانی اور بڑی جائیداد کو فروخت نہ کرنا چاہئے، نہ ہی بینک سے لون لینا چاہئے۔ پس بیٹے کو سمجھائیں کہ سکینڈ ہینڈ کی گاڑی اچھے قسم کی لے لیں اس میں بہت سے نقصانات سے آپ بچ جائیں گے۔ آپ بچے کی ضد کو پوری کریں گے تو آگے چل کر آپ بھی پریشانیوں میں مبتلا ہو جائیں گے اور بیٹا بھی پریشان ہو جائے گا۔ پھر دونوں پریشان ہوں گے نئی گاڑی کے لئے ضد کرنا کوئی عقلمندی کی بات نہیں ہے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات