معاملات - سود و انشورنس

Pakistan

سوال # 170253

چائنہ کی موٹر سائیکل کی مارکیٹ قیمت ۵۰۰۰۰ہے ۔ لیکن ہمارے شہر میں ایک فرم ہے جو کہ موٹر سائیکل کی بکنگ ایک ماہ پہلے کرتے ہیں اور کسٹمر سے ۴۴۰۰۰ کے حساب سے شروع میں رقم لے لیتے ہیں ۔ ایک ماہ کے بعد کسٹمر کو موٹر سائیکل مارکیٹ ریٹ سے ۶۰۰۰ ہزار کم میں دے دی جاتی ہے ۔ لیکن اگر کسٹمر اسی وقت اس موٹر سائیکل کو انکو فروخت کرنا چاہے تو وہ پھر ۵۰۰۰۰ کے حساب سے مارکیٹ ریٹ پر خرید لیتے ہیں۔ یہ فرم ہمارے شہر میں موٹر سائیکلوں کا کاروبار کرتی ہے ۔ کسٹمرز ایک ماہ پہلے موٹر سائیکل کی بکنگ کرواتے ہیں اور ۴۴۰۰۰ کے حساب سے رقم جمع کروادیتے ہیں ۔ مہینے کے آخر میں کسٹمر کو موٹرسائیکل مل جاتی ہے لیکن کسٹمر اس موٹر سائیکل کو اسی وقت اسی فرم کو مارکیٹ ریٹ ۵۰۰۰۰ کے عوض فروخت کر دیتا ہے ۔ اس فرم کی پالیسی کے مطابق اگر کوئی کسٹمر موٹرسائیکل لینے نہ آئے تو اس کا مطلب یہ تصور کیا جاتا ہے کہ کسٹمر موٹر سائیکل نہیں لینا چاہتا بلکہ انہی کو واپس فروخت کرنا چاہتا ہے تو پھر یہ فرم فی موٹر سائیکل ۶۰۰۰ کے حساب سے رقم کسٹمر کے اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کر دیتی ہے ۔ جس کسٹمر نے موٹر سائیکل لینی ہو وہ مہینے کے اختتام پر اپنی موٹر سائیکل خود آ کر لے سکتا ہے ورنہ پھر یہ فرم اپنی پالیسی کے مطابق کسٹمر کو ۶۰۰۰ کا نفع ادا کر دے گی اور کسٹمر کی اصل رقم ۴۴۰۰۰ روپے دوبارہ اگلے ماہ کے لیے جمع کر لے گی۔ اور اگلے ماہ کے آخر میں اگر کسٹمر موٹرسائیکل لینا چاہے تو لے سکتا ہے ورنہ پھر یہ فرم اسی موٹر سائیکل کو ۵۰۰۰۰ کے مارکیٹ ریٹ پر خرید کر ۶۰۰۰ روپے کا نفع کسٹمر کو ادا کر دیتی ہے ۔کسٹمر کسی بھی وقت اپنی اصل رقم واپس لے کر اس معاہدے سے دستبردار ہو سکتا ہے ۔ تو اب سوال یہ ہے کہ کیا موٹر سائیکل دی گئی صورت کے مطابق فروخت کرنا اور نفع کی رقم حاصل کرنا جائز ہے ؟
برائے کرم مدلل اور مفصل جواب سے ہماری رہنمائی فرمائیں۔ شکریہ

Published on: May 21, 2019

جواب # 170253

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:972-106T/L=9/1440



صورتِ مسئولہ میں دو معاملے الگ الگ ہیں ایک یہ کہ موٹر سائیکل خریدنے کے لیے پیشگی رقم دینا دوسرا یہ کہ نفع کے ساتھ موٹر سائیکل کو فرم سے فروخت کرنا ،پہلے معاملہ میں اگر موٹر سائیکل وغیرہ کی جنس معلوم ہو تو بیع سلم کے تحت اس کی گنجائش ہوگی ؛البتہ دوسرا معاملہ(موٹر سائیکل کو فرم کے پاس فروخت کرنا ) یہ اس وقت تک جائز نہ ہوگا جب تک کہ خریدار موٹر سائیکل پر قبضہ نہ کرلے اور موٹر سائیکل اس کی ضمان میں نہ آجائے ،موٹر سائیکل کے قبضہ اور ضمان میں آنے سے پہلے اس کو فروخت کرنا جائز نہیں ،پس سوال میں جو یہ صورت ذکر کی گئی ہے کہ فرم کی پالیسی کے مطابق اگر کوئی کسٹمر موٹر سائیکل لینے نہ آئے تو اس کا مطلب یہ تصور کیا جاتا ہے کہ کسٹمر موٹر سائیکل لینا نہیں چاہتا بلکہ انھیں کو واپس فروخت کرنا چاہتا ہے تو یہ فرم فی موٹر سائیکل ۶۰۰۰/ہزار کے حساب سے رقم کسٹمر کے اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کردیتی ہے اس میں نہ تو مبیع پر قبضہ ہوتا ہے اور نہ ہی مبیع متعین ہوتا ہے ؛لہذا یہ صورت جائز نہیں۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات