معاملات - سود و انشورنس

India

سوال # 169119

کیا فرماتے ہیں مفتیان حضرات قرآن حدیث کی روشنی میں مندرجہ ذیل سوالات کے بارے میں؛
(1) کیا ہم بینک سے ملے سود کو انکم ٹیکس میں دے سکتے ہیں؟
(2) کیا بینک سے ملے سود کو کسی ضرورت مند کو دے سکتے ہیں؟
(3) کیا بینک سے ملے سود کو اپنے نوکر کو دے سکتے ہیں؟

Published on: Mar 11, 2019

جواب # 169119

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 610-513/D=07/1440



(۱) جی ہاں دینے کی گنجائش ہے۔



(۲) جی ہاں دے سکتے ہیں۔



(۳) نوکر کو اس کی خدمات کے عوض میں تو نہ دے خدمات کے علاوہ یونہی بطور انعام اور تحفہ کے دے سکتے ہیں بشرطیکہ وہ غریب ہو۔ قال فی الدر: یردونہا (الرشوة والفوائد الربویة فی حکمہا) علی اربابہا ان عرفوہم والا تصدقوا بہا لان سبیل الکسب الخبیث التصدق اذا تعذر الرد علی صاحبہ ۔ ج: ۹/۵۵۳، الدر مع الرد ۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات