معاملات - سود و انشورنس

UAE

سوال # 168763

جناب میرا سوال دبئی میں چلنے والی آفرز سے متلعق ہے جس میں اکثر ڈسکاؤنٹ آفرز دی جا رہی ہوتی ہیں ۰۲٪ ۰۳٪ ۰۵٪ کئی بار، مگر اس بار ایک نئی افر متعارف ہوئی جس میں ایک منی ایکسچینج کمپنی ان کی ویزا پالیسی کے مطابق ۰۰۰۳ درہم کے ٹرانسفر کرنے پر کمپنی ۰۰۱ درہم کا واؤچر دے رہی ہے . جوکہ ۰۱۱ سے زائد اسٹورز پر استعمال کر سکتے ہیں، میرا سوال اس ملنے والے واؤچر کے متعلق ہے کیوں کہ پیسوں کے بدلے پیسے دیے جا رہے ہیں کہیں یہ سود تو نہیں جو کہ کمپنی اپنے صارفین کو دے رہی ہے ، ۰۰۰۳ درہم خرچ کرنے پر ۰۰۱ زائد دیئے جا رہے ہیں جب کہ یہ پیسے میں اپنے گھر بھیجتا ہوں۔ اگر چہ گفت کی جگہ پیسوں کا واؤچر مل رہا ہے تو دل میں شبہ ہے کہ آیا یہ حلال ہے یا حرام ہے ؟ سود ہے یا نہیں؟ آپ سے درخواست ہے کہ اس میں میری اور دوستوں کی رہنمائی فرمائیں

Published on: Mar 18, 2019

جواب # 168763

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:577-514/N=7/1440



اگر کوئی منی ایکسچینج کمپنی، پیسے ٹرانسفر کرنے پر متعینہ رقم کا واوٴچر دیتی ہے، جو مختلف اسٹورز پر استعمال کیا جاسکتا ہے تو یہ واوٴچر شریعت کی نظر میں جائز ہے؛ کیوں کہ اس کی حیثیت تشجیعی وترغیبی انعام کی ہے، جو کمپنی اس مقصد سے دیتی ہے کہ کسٹومر آئندہ بھی اسی کمپنی کے ذریعہ ٹرانسفرنگ کا کام کراتا رہے اور دوسروں کو بھی ترغیب دے۔ اور یہ سود اس لیے نہیں ہے کہ کسٹومر کمپنی کو کوئی قرض نہیں دیتا ہے ؛ بلکہ اس سے پیسے ٹرانسفر کرنے کا معاملہ کرتا ہے۔ اور یہ ایسا ہے جیسے ڈیجیٹل طریقہ پر کسی ایپ کے ذریعہ ایک اکاوٴنٹ سے دوسرے اکاوٴنٹ میں پیسے ٹراسفر کرنے پر ایپ کمپنی کچھ انعام دیتی ہے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات