معاملات - سود و انشورنس

India

سوال # 168729

کیا بینک کے اکاؤنٹ میں آیا ہوا انٹریسٹ (سود) کا پیسہ اپنے کسی غریب بھائی بہن کو یا ان کے بچوں کی اسکول فیس وغیرہ کے لیے دینا جائز ہوگا؟ اگر نہیں تو سود کا پیسہ کس طرح کے شخص کو دیا جاسکتاہے؟ یا کس کام میں خرچ کریں؟ مجھے یہ معلوم ہے کہ سود کا پیسہ حرام ہے پر اگر وہ اکاؤنٹ میں آجائے تو ان پیسوں کا کیا کریں جب کہ وہ ہزاروں میں ہو؟ برا ہ کرم، رہنمائی فرمائیں۔

Published on: Mar 10, 2019

جواب # 168729

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:513-498/sd=07/1440



 غریب بہن بھائیوں کو بھی سودی رقم ثواب کی نیت کے بغیر دی جاسکتی ہے ، اسی طرح اُن کے بچوں کی اسکول فیس میں یہ رقم دینا جائز ہے ، تاہم ایسے قریبی رشتہ داروں کا تعاون اگر امداد کی رقم سے کیا جائے ، تو بہتر ہے ۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات