معاملات - سود و انشورنس

India

سوال # 168636

ایک آدمی ایکسیڈینٹ میں ماراگیا گاڑی اولا سے، فرسٹ پارٹی کا انشورنس تھا ، اب اس میت کے ورثہ کو 700000 لاکھ روپئے مل رہے ہیں تو کیا شریعت میں اس رقم کا لینا جائز ہے؟

Published on: Feb 25, 2019

جواب # 168636

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 517-446/D=06/1440



ہر گاڑی ڈرائیور کے چلانے سے چلتی اور حرکت کرتی ہے، لہٰذا جب ایکسیڈنٹ کی وجہ سے کوئی مرتا ہے تو اس کی نسبت گاڑی کی طرف نہیں بلکہ ڈارئیور کی طرف کی جاتی ہے، اسی وجہ سے اگر کوئی شخص کار حادثہ میں مرجاتا ہے تو شرعاً ڈرائیور کو خطاءً قتل کرنے کا ملزم قرار دیا جاتا ہے۔ والظاہر أن سائق السیارة ضامن لما أتلفتہ في الطریق سواء أتلفتہ من القدام أو من الخلف، و وجہ الفرق بینہا وبین الدابة علی قول الحنفیة أن الدابة متحرکة بإرادتہا فلا تنسب نفحتہا إلی راکبہا بخلاف السیارة فإنہا لا تتحرک بإرادتہا فتنسب جمیع حرکاتہا إلی سائقہا، فیضمن جمیع ذالک (تکملة فتح الملہم: ۲/۳۱۰، ط: أشرفی دیوبند) لیکن قتل خطا میں دیت کی ادائیگی شرعاً تنہا قاتل پر لازم نہیں ہوتی ہے بلکہ عاقلہ پر ہوتی ہے اور شرعی اعتبار سے ملزم کے عاقلہ وہ لوگ ہوں گے جن کے ساتھ ان کا تعاون کا تعلق ہے۔ والعاقلة أہل الدیون إن کان القاتل من أہل الدیوان یوٴخذ من عطایاہم في ثلاث سنین ․․․․ ومن لم یکن من أہل الدیوان فعاقلتہ قبیلتہ (ہدایة: ۴/۶۴۵-۶۴۷، ط: أشرفی دیوبند) لیکن غیر اسلامی ممالک میں قوانین اسلامیہ نہ ہونے کی وجہ سے اس پر عمل کرنا بہت مشکل ہے اس لئے اس طرح کے ممالک میں یہ توجیہ ہو سکتی ہے کہ انشورنس کمپنی کو ملزم کے عاقلہ (ہم پیشہ) کے قائم مقام سمجھا جائے، لہٰذا انشورنس سے میت کے ورثہ کو جو سات لاکھ روپئے مل رہے ہیں وہ درست ہیں ان کا لینا جائز ہے اور اس میں وراثت بھی جاری ہوگی۔ اور تمام ورثہ اپنے شرعی حصے کے حق دار ہوں گے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات