معاملات - سود و انشورنس

India

سوال # 168387

ہمارے سوسائٹی کے زیرنگرانی سات مساجد ہیں جن کا مختلف بینک میں اکاؤنٹ ہے اور موجود رقم کا انٹریشٹ بھی آتا ہے کیا اس پیسے کا استعمال کورٹ اور وکیل کے لے کیا جا سکتا ہے یا نہیں؟

Published on: Feb 26, 2019

جواب # 168387

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:457-452/sd=6/1440



 



جی نہیں! سودی رقم کا استعمال کورٹ اور وکیل کی فیس میں کرنا جائز نہیں ہے، ایسی رقم ثواب کی نیت کے بغیر غریبوں پر صدقہ کردینا چاہیے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات