معاملات - سود و انشورنس

Pakistan

سوال # 168153

رشوت لینے دینے والے دونوں جہنمی ہیں تو آج کل یہ کیوں کہا جاتاہے کہ اپنے جائز کام کے لیے دے سکتے ہیں؟ کیا یہ اجتہاد ہے؟ اور اگر اجتہاد ہے تو کیا ایسا اجتہاد صحیح ہوجائے گا جو قرآن وسنت سے ٹکرائے؟

Published on: Jan 31, 2019

جواب # 168153

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 526-476/M=05/1440



حدیث کے مطابق ، رشوت دینے والا اور رشوت لینے والا دونوں ملعون و گنہ گار ہیں، یہ بات صحیح ہے، عام حالات میں یہی حکم ہے کیونکہ اس سے حق کا ابطال لازم آتا ہے اور ناحق طریقے پر کام کرنے، کرانے کا جذبہ ابھرتا ہے لیکن بعض مرتبہ صورت حال ایسی ہوتی ہے کہ دینے والا مظلوم و مجبور ہوتا ہے مثلاً مال دیئے بغیر اپنا جائز اور واجبی حق وصول نہ ہوتا ہو یا دفع ظلم و ضرر کے طور پر دیتا ہو تو یہ حقیقت میں رشوت نہیں اس لئے فقہاء کرام نے دینے والے کے لئے ایسی صورت حال میں صرف دینے کی گنجائش دی ہے، یہ قرآن و سنت کے مقابلے میں اجتہاد نہیں۔ حدیث کے مصداق اور فقہاء کی اجازت کے درمیان کوئی تعارض نہیں ہے۔ دفع المال للسلطان الجائر لدفع الظلم عن نفسہ ومالہ ولاستخراج حق لہ، لیس برشوة یعنی فی حق الدافع (شامی: ۹/۵۱۲، أشرفی) ۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات