معاملات - سود و انشورنس

India

سوال # 168148

کیا فرماتے ہیں مفتیان متین درج ذیل مسائل کے بارے میں کہ؛
(۱) بینک میں فکس ڈپوزٹ کرنا اور اس سے آئے ہوئے ماہانہ قسط کا مل نا جو کہ میرا ذاتی پیسہ کے علاوہ ہے حرام ہے؟ کیا یہ ہم اس رقم سے کوئی چار چکے کی گاڑی خریدنے سے جو ماہانہ قسط لگتی ہے دے سکتے ہیں؟
(۲) کیا ہم اس رقم سے بینک کا جو سالانہ آے ٹی ایم چارج ، ایس ایم ایس چارج ہے جو میری ذاتی رقم سے کٹ جاتاہے دے سکتے ہیں؟

Published on: Feb 17, 2019

جواب # 168148

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:534-512/L=6/1440



بینک میں فکس ڈپوزٹ کرنا جائز نہیں ،اسی طرح بینک کے توسط سے گاڑی خریدنا جائز نہیں؛ البتہ اگر دونوں بینک (جس میں رقم فکس کیا ہے اور جس کے توسط سے گاڑی خریدی گئی ہے) سرکاری ہیں تو جو زائد رقم فکس ڈپوزٹ کرانے کی صورت میں ملی ہے اس کو بینک کے توسط سے) اتفاقاً کسی مجبوری میں گاڑی خریدنے کی صورت میں جو زائدسود کی شکل میں رقم دینی پڑے اس کے عوض دے سکتے ہیں ؛لیکن اصل رقم(جوگاڑی کی اصل قیمت ہے) کے عوض سوددینا درست نہ ہوگا۔اسی طرح اے ٹی ایم چارچ یا ایس ایم ایس چارچ کے عوض بھی سودی رقم دینا جائز نہ ہوگا ؛کیونکہ یہ ان منافع کا عوض ہے جس سے آدمی خود فائدہ اٹھاتا ہے ،ایسی صورت میں سود سے خود نفع اٹھانا ہوگا اور سود سے خود منتفع ہونا جائز نہیں۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات