معاملات - سود و انشورنس

India

سوال # 167842

کیا فرماتے ہیں علماء اکرام کہ ۱) زید اپنے بینک اکاؤنٹ میں موجود سود کی رقم اور کسی دوست کے اکاؤنٹ کی سود کی رقم ملا کر یا بغیر ملاے کسی پبلک جگہ پر درخت لگانے کے لئے استعمال کرنا چاہتا ہو تو کیسا رہیگا ؟ کیا ایسا کرنا جایز ہو گا ؟
۲) اگر ہاں..تو پھر کس قسم کے درختوں کا استعمال کیا جانا چاہیے ؟ مثَلاً پھل دار درختوں کا استعمال کیسا رہے گا ؟
۳) اگر زید سود کی رقم میں اپنی جانب سے کچھ ذاتی رقم ثواب کی نیّت سے بھی شامل کرنے کا خواہشمند ہو تو اس کے لئے کیا حکم ہوگا؟
۴) اگر کوئی شخص سود کی رقم سے لگانے گئے درخت کے پھل ، پتیاں ، لکڑیاں ، گوند یا پھر اس کا سایہ یا پھر کوئی بھی شے اپنے ذاتی مفاد کے لیے استعمال کرے تو اس شخص کے لئے کیا حکم ہوگا ؟
آپ سے گزارش ہے کہ اس معاملے میں شرعی احکامات کی روشنی میں رہنمائی فرما کر شکریہ کا موقع دیں۔

Published on: Jan 13, 2019

جواب # 167842

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 481-422/M=05/1440



(ا تا ۴) سودی رقم کو بینک سے نکال کر بلانیت ثواب ، غریب و فقیر کو دے کر مالک بنادینا چاہئے، سودی رقم کو رفاہی کاموں جیسے پبلک والی جگہ پر درخت لگانے کے لئے استعمال کرنا درست نہیں، چاہے پھل دار درخت ہو یا بلا پھل والا درخت، اپنی ذاتی حلال رقم سے درخت لگوانے میں مضایقہ نہیں لیکن اس کے ساتھ سودی رقم کو شامل کرنا درست نہیں اگر کسی نے براہ راست سودی رقم سے درخت لگا دئیے تو اس کے درخت کے پتوں، پھل اور لکڑی وغیرہ استعمال کرنے سے بچنا چاہئے ہاں سودی رقم کسی غریب کو بلانیت ثواب دیدی جائے پھر وہ اس رقم سے مفاد عامہ کے لئے اپنی مرضی سے درخت لگوادے تو اس کے استعمال میں حرج نہیں۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات