معاملات - سود و انشورنس

india

سوال # 167769

مفتی صاحب مجھے پیسے کی ضرورت تھی جس کے لیئے میں نے بینک سے لون لے لیا اور لون پر جو سود بنتا ہے تقریبا اس کے برابر سود میرے بینک کھاتے میں اسی بینک کا تھا سود کے پیسے کو جس بینک سے آیا تھا اسی بینک میں واپس چلا گیا اور مجھے جو بینک سے جو پیسے ملے تھے وہی اصل پیسے مجھے بینک میں دینے ہیں کیا اس طرح میرا بینک سے لون لینا حرام ہے اسی بارے میں شریف کی روشنی کی بتائے ۔

Published on: Jan 9, 2019

جواب # 167769

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 382-299/D=05/1440



سود کی ادائیگی تو سود کے ذریعہ کردینا جائز ہوا لیکن لون کا معاملہ جو کہ سودی معاملہ تھا اس کے کرنے کا گناہ ہوگا جس کے لئے تو بہ استغفار کریں۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات