معاملات - سود و انشورنس

india

سوال # 167767

سوال: مفتی صاحب، میرا سوال یہ ہے کہ میں پٹواری کی نوکری کرتا ہوں اور میرے پاس کاشتکار اپنے کام کرانے کے لیے آتے ہم کا شکار کو کام کرنے کے بعد ان سے کچھ فیس لیتی ہے جو حکومت نے متعین کر رکھی ہے لیکن بہت سے کاشتکار ہمیں کچھ زیادہ فیتے دیتے ہیں کیونکہ ان کا کام جلدی ہو جانے کی وجہ سے مثلا کسی کام کے لئے حکومت نے ہمیں ایک ہفتہ کا ٹائم دے رکھا ہے مگر ہم اس کام کو دو گھنٹے میں ہی کر کے دے دیتے ہیں کیونکہ کسی آدمی کا وقت خراب نہ ہو اور اس کا کام یا جو بھی کام کرتا ہے وہ کام نہ چھوٹے اس وجہ سے وہ خوش ہو کر کچھ ہمیں زیادہ پیسے دے دیتے اس کے علاوہ بہت سے آدمی جس کا کام بڑا ہوتا ہے یا پھر دس دن کا ہوتا ہے اس آدمی کا کام مکمل ہونے پر ہمیں کچھ روپیہ خوشی سے دیتا ہے اور یوں کہتا ہے یہ تو تمہارا ہدیہ ہے ہم ان سے صاف کہتے ہیں کہ اس کام کی کوئی پیسے نہیں لگتی کہ یہ پیسہ لینا حرام ہے یار شوتا اور شریعت میں رشوت کسے کہتے ہیں اس کے بارے میں بتائیں۔

Published on: Jan 13, 2019

جواب # 167767

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 461-416/M=05/1440



کام کرنے سے پہلے اگر کاشتکار سے اضافی فیس کا مطالبہ ہو یا زائد پیسے کا مشروط معاملہ ہو تو یہ رشوت ہے اس کا لینا دینا حرام ہے ہاں اگر کام پورا ہوجانے کے بعد خوشی سے کوئی شخص زائد رقم ہدیةً دیدے جب کہ پہلے سے کوئی مطالبہ نہ ہو اور نہ دل میں چاہت و طمع ہو کہ کام کرانے والا ہمیں ہدیہ دے گا تو یہ رشوت نہیں، اس کو لینے کی گنجائش ہے اگرچہ بہتر یہی ہے کہ اس کو لینے سے بھی احتیاط کریں کیونکہ آپ کو کام کی تنخواہ ملتی ہے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات