معاملات - سود و انشورنس

India

سوال # 167750

محترمی جناب مُفتی صاحب، مندرجہ ذیل مسئلہ پر رہنمائی فرمائیں، عین نوازش ہوگی۔ ہمارا ادارہ فیڈریشن حج پی۔ٹی۔او آف انڈیا کے نام سے رجسٹڑڈ ہے جن میں حکومتِ ھند سے منظور شدہ حج ٹور چلانے والے رجسٹرڈ حج پرائیوٹ ٹور آپریٹرس ممبر ہیں۔ یہ ادارہ حج پرائیویٹ ٹور آپریٹرس اور حاجیوں کے مفاد اور فلاح کے لئیے وجود میں لایا کیا ہے ۔ وزرات اقلیتی امور، حکومتِ ھند ہم حج ٹور آپریٹرس کوہر سال بعد از تمام ضروی اور پیچیدہ مراحل سے گزرنے کے بعد رجسٹریشن دیتی ہے ، جس کی بنیاد پر پرایئوٹ حج ٹوُر آپریٹرس حاجیوں کو حج کراونے کے انتظامات کے مجاز ہوتے ہیں۔ اسی سلسلہ میں وزرات کے پاس ہر پی-ٹی-او کو پچس لاکھ (2500،000) رُوپئیوں کی ضمانتی رقم بنک کے فکس ڈپازٹ کی صورت میں دینی ہوتی ہے ۔ جس پر بنک سے سود کی مد میں ایک رقم ملا کرتی ہے ۔ وزرات ہر سال نت نئے قانون کا نفاذ ٹور آپریٹرس کو ہراساں کرنے کے لیئے ہم پر لادتی رہتی ہے جس کی وجہ سے ہمیں وزرات سے کورٹ میں لڑنے کے سوا کوء چارہ نہیں رہ جاتا ہے ، اور الحمد اللہ ثم الحمد اللہ سن 2011 سے لے کر اب تک وزرات کو سُپریم کورٹ میں ہر دفعہ ہم سے ہار ہی ہوئی ہے ۔ ہر سال کی طرح اس سال بھی وزرات نے بے حد سخت، یچیدہ اور پریشان کُن شرائط ہم پر لاد دی ہیں جس کے لئیے ہمیں پر سُپریم کورٹ کا دروازہ کھکھٹانے کی نوبت آ چُکی ہے ، اور سُپریم کورٹ میں بے تحاشہ اخراجات کا سامنہ کرنا ہوتا ہے جو کسی فردِ واحد کے لیے نا ممکن ہے ، ہم بطور پی۔ٹی-او کی نمائندہ تنظیم کے طور پراب تک کورٹ کے معاملات کو نپٹاتے آئے ہیں، اور آگے بھی اس کے لیے کوشاں رہنے کی کوشش کرینگے ۔ ان تک یہ ہوتا آیا ہے کہ ہمارے ممبران ہی مل کر ان مقدمات کے سلسلے میں تعاون کرتے آ ئے ہیں- ان صورتِ حال میں ہمارا سوال دراصل یہ ہے کہ کیا ہمارے فیڈریشن کے ممبران اُن کو پچس لاکھہ روپئوں کے فکس ڈپازٹ پر ملنے والی سود کی رقم فیڈریشن کو کورٹ ، وکیل اور مقدے کے دیگر اخراجات میں استعمال کرنے کے لئیے دے سکتے ہیں؟ یا نہیں؟ کیوں کہ ہر سال ہمیں ہراساں کرنے کے لئیے ناجائز اور نت نئے قانون ہم پر تھوپے جاتے ہیں اور ہم لگاتار وزرات کے اس ظلم کا شکار بنتے رہتے ہیں، اور پھر مجبورا# ہمیں مقدمات کا سہارا لینا پڑتا ہے - اور یہ کام سب ممبران کے مالی تعاون سے ہی ممکن ہے ۔ آٌپ سے اُمید اور درخواست ہے کہ جلد از جلد ہمیں اس سلسلے میں رہنمای دیں۔

Published on: Jan 12, 2019

جواب # 167750

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:459-413/L=5/1440



سود کی رقم کاحکم یہ ہے کہ اس کو بلانیتِ ثواب فقراء مساکین پر صدقہ کردیا جائے ،اسی طرح سود کی رقم حکومت کی طرف سے عائد کردہ ناواجبی ٹیکسوں میں بھی ادا کرنے کی گنجائش ہے ؛البتہ سودی رقم کو وکیل یا مقدمے کے دیگر اخراجات میں صرف کرنا جائز نہیں۔ لأن سبیل الکسب الخبیث التصدق اذا تعذر الرد علی صاحبہ․(شامی:۵۵۳/۹ط:زکریا دیوبند)



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات