معاملات - سود و انشورنس

Myanmar

سوال # 167367

کیا فرماتے مفتیان عظام کہ ایک شخض سونے کی چھوٹی دلیاں بنا کر رکھتا ہے اور ضرورت مندوں کو وہ دلیاں بازاری قیمت سے زیادہ سے ادھار میں فروخت کرتا ہے کہ اب یہ لے جاو بعد میں ایک مہینے کے بعد اتنے پیسے ادا کرنا اس طرح مستقل طور پر قرض سے دلیاں بیچنا کیساہے ؟براہ کرم، رہنمائی فرمائیں۔

Published on: Jan 9, 2019

جواب # 167367

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 415-400/M=05/1440



سوال کے آخری جملے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ شخص سونے کی دلیاں ضرورت مندوں کو بطور قرض دیتا ہے اور دیتے وقت اس کی قیمت زیادہ لگاتا ہے اور واپس لیتے وقت وہی سونا کم قیمت پر واپس لے لیتا ہے۔ اگر معاملے کی نوعیت اسی طرح ہے تو یہ جائز نہیں اور اگر یہ صورت مراد ہے کہ وہ شخص سونے کی دلیاں ادھار بیچتا ہے اور ادھار بیچنے کی وجہ سے اس کی قیمت بازاری قیمت سے زیادہ لگاتا ہے اور خریدار مجلس عقد میں سونے پر قبضہ کرلیتا ہے اور پھر ایک مہینے کے بعد خریدار سونے کی وہ قیمت ادا کردیتا ہے جو عقد کے وقت طے ہوئی تھی، بعینہوہ سونا واپس نہیں کرتا تو اس طریقے پر خرید و فروخت کا معاملہ جائز ہے ۔ اور اگر مجلس عقد میں احدالبدلین پر قبضہ نہیں ہوتا تو بھی یہ معاملہ جائز نہیں۔ لم یشترط فی بیع الفلوس بالدراہم أو الذنانیر قبض البدلین قبل الافتراق ویکتفی بقبض أحد البدلین (الہندیہ: ۳/۲۱۷) (شامی: ۷/۵۲۲، زکریا) ۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات