معاملات - سود و انشورنس

India

سوال # 155008

کراچی پاکستان کے مفتی طارق مسعود کے مطابق اگر کوئی شخص کسی شخص سے سودی قرض لینے کی بجائے اس سے اتنی ہی رقم کا سونا خرید لے اور فوراً بازار میں فروخت کرکے اپنا روپیہ حاصل کر لے ، جتنی مدت قرض میں طے ہونی تھی وہ اسی میں طے ہوجائے ، اگر قرض 10 لاکھ کا ہے اور اس پر 1 سال کا سود 2 لاکھ روپے آتا ہے تو وہ یہ طے کر لے کہ 10 لاکھ اصل رقم اور 2 لاکھ روپے مزید اس طرح کل 12 لاکھ روپے 1 سال بعد واپس کرے تو اس طرح سود نہیں ہوگا؟ کیا لون کی بجائے اس طرح سے قرض لینا جائز ہے ؟

Published on: Oct 12, 2017

جواب # 155008

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa: 17-9/N=1/1439



کرنسی کے عوض سونے، چاندی کی خرید وفروخت مکمل طور پر بیع صرف نہیں ہے؛ اس لیے سونے، چاندی کی بیع کرنسی کے عوض ادھار جائز ہے بہ شرطیکہ کسی ایک عوض پر مجلس عقد ہی میں قبضہ کرلیا جائے، اور اگر دونوں عوض ادھار ہوں تو یہ جائز نہیں، پس اگر کوئی شخص کسی شخص سے دس لاکھ روپے کی مالیت کا سونا ادھار ۱۲/ لاکھ روپے میں خریدے اور ۱۲/ لاکھ روپے کی ادائیگی ایک سال کے بعد طے ہو یا متعینہ اقساط میں تو یہ شرعاً جائز ہے اور خریدار پر ایک سال کے بعد یا متعینہ اقساط میں مکمل ۱۲/ لاکھ روپے ادا کرنا ضروری ہوگا؛ البتہ اس معاملے میں ضروری ہوگا کہ بائع کے پاس پہلے سے اس کی ملکیت وقبضہ میں سونا موجود ہو اور وہ اپنے پاس موجود سونا ہی فروخت کرے اور مجلس عقد ہی میں مشتری کو اس خریدے ہوئے سونے پر قبضہ دیدے۔ اور اگر کوئی شخص اس معاملہ میں کچھ ردوبدل کرتا ہے تو حکم دوسرا ہوسکتا ہے۔اور واضح رہے کہ یہ ادھار خرید وفروخت کی شکل ہے، قرض کی شکل نہیں ہے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات