معاملات - سود و انشورنس

India

سوال # 153463

(۱) دس سال پہلے ہم دو دوست نے ایک چیز خریدنے کے لیے کریڈٹ کارڈ سے 200000/ (دو لاکھ) نقد بینک سے نکالا، اور اس مخصوص چیز کو خریدنے کے لیے پوری رقم میں نے اپنے ہی کارڈ سے ودھرال کیا (نکالا)۔ ہم دونوں وہ رقم لے کر اترپردیش کے ایک گاوٴں پہنچے۔
(۲) گاوٴں میں اس آدمی نے وہ چیز ہم کو دکھا کے پوری رقم ہم سے لینے کے بعد چلاگیا۔ اگلے دن پتا چلا کہ وہ چیز نقلی تھی․․․ اس طرح ہم کو دھوکہ بھی ہوا اور رقم بھی چلی گئی۔ وہاں سے آنے کے بعد ہماری نوکری بھی نہیں رہی، اور ہم سے کارڈ کا ری پیمنٹ ( re-payment دوبارہ ادائیگی) نہیں ہو پایا۔
اب سوال ہے کہ میں نے کریڈٹ کارڈ سے جو رقم ودھرال کیا تھا اس کے لیے میرے نام پر نوٹس آتی ہے۔ اور دھمکی بھرے فون ریکوری ایجنٹ (recovery agent ) کرتے ہیں۔ اور اس رقم پر سود کا جرمانہ (interest penalty) اور لیٹ پیمنٹ چارج (late payment charges) لگ کے رقم کافی بڑھ گئی ہے۔ اب میں نوکری کرتا ہوں اور بینک میں تنخواہ آتی ہے اور اس رقم پر سود کی رقم بھی آتی ہے۔
میرا سوال یہ ہے کہ جو بینک کا قرض ہے کیا میں وہ سود کی رقم سے ادا کر سکتا ہوں؟

Published on: Aug 13, 2017

جواب # 153463

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa: 1112-914/D=11/1438



جس بینک نے قرض پر سود لگایا اور جس بینک میں تنخواہ پر سود ملا اگر دونوں بینک ایک ہی نام کے ہوں یا دونوں سرکاری ہوں تو ایک جگہ کا ملا ہوا سود دوسری جگہ ادا کرسکتے ہیں۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات