عقائد و ایمانیات - بدعات و رسوم

Pakistan

سوال # 164684

کیا فرماتے ہیں علماء کرام و مفتیان عظام اس کے بارے میں کہ میرے بھائی کی شادی طے ہوگئی ہے۔ اب گھر کی مستورات کہہ رہی ہیں کہ شادی میں ڈھول بھی بجائیں گے۔ ڈھول سے مراد پلاسٹک کی بوتل ہے جس سے ڈھول کا کام لیا جائے گا۔ پچھلے دنوں میرے چچا کی منگنی تھی، وہاں باقاعدہ ڈھول والے بلائے گئے۔ اور ایک مفتی صاحب وہاں موجود تھے جو کہنے لگے کہ اس سادہ سے ڈھول کی تو اجازت ہے۔
(۱) پوچھنا یہ ہے کہ ہمارے ہاں شادی پر مستورات رات کو پلاسٹک کی بوتل لے کر اس کو مارتی ہیں اور تالیاں اور گانے بھی گاتی ہیں، ان کی اسلام میں کتنی گنجائش ہے؟
(۲) دوسرا یہ کہ روکنے پر بھی اگر نہ رکیں تو کیا شادی یا گھر چھوڑ کر کہیں اور چلا جاوٴں؟

Published on: Sep 20, 2018

جواب # 164684

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:1456-1240/sd=1/1440



(۱) شادی میں عورتوں کا گانے اور تالیوں کے ساتھ ڈھول بجانا ناجائز ہے ، اعلان نکاح کے لیے صرف دف بجانے کی گنجائش ہے ، بشرطیکہ اس میں جلاجل نہ ہو،نیز ہیئت تطرب پر نہ بجایا جائے ؛ لیکن باقاعدہ گانے ، ساز اور تالیوں کے ساتھ ڈھول بجانا جائز نہیں ہے ۔



(۲) اگر منع کرنے پر نہ رکیں، تو خود اُس مجلس میں شرکت نہ کی جائے ۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات