معاملات - وراثت ووصیت

Pakistan

سوال # 173668

۱- ہبہ / عطیہ میں اولاد میں مساوی تقسیم کرنے کی کیا وجہ ہے، جبکہ قرآن میں بیٹے کا بیٹی سے دو گنا حصہ ہے؟
۲- ایک بھائی کے ہاں ایک بیٹی اور ایک بیٹا ہے؛ والدین اور بیوی وفات پا چکے ہیں۔ اُن کے پاس ایک عدد ذاتی (یعنی تنخواہ سے بنایا ہوا) مکان ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ مکان بیٹے اور بیٹی میں برابر تقسیم ہو۔ تو کیا انہیں اپنی زندگی ہی میں اس مکان کی تقسیم کر دینی چاہیے یا ایک وصیت لکھ سکتے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ “وارث کے لیے وصیت نہیں” اور غیر شرعی وصیت کی صورت میں وہ گناہ گار ہوں گے۔
جزاكم الله خيرا

Published on: Oct 17, 2019

جواب # 173668

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 151-96/B=02/1441



جب تک باپ حیات ہوتاہے اپنی تمام جائیداد کا مالک و مختار ہوتا ہے اپنی حیات میں جو کچھ اپنی اولاد کو دے گا وہ شرعاً ہبہ ہوگا۔ اور ہبہ کے بارے میں حدیث شریف میں آیا ہے ” سَوُّوا بَیْنَ أولاَدِکُمْ فِی الْعَطِیَّةِ “ یعنی عطیہ اور ہبہ میں اپنی اولاد کے درمیان برابری اختیار کرو۔ اس طرح کی اور احادیث بھی ہیں۔ ان احادیث کی وجہ سے حضرت امام ابو یوسف رحمہ اللہ اسی کو افضل قرار دیتے ہیں۔ اور اس کی بھی اجازت ہے کہ کسی بیٹے کو اس کی زیادہ خدمت یا اطاعت شعاری کی وجہ سے کچھ زیادہ بھی دے سکتے ہیں۔ اور حضرت امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میراث کی طرح اولاد کے درمیان للذکر مثل حظ الأنثیین دیا جائے گا۔ فتویٰ امام ابو یوسف کے قول پر ہے۔ ویسے ان دونوں قولوں میں سے جس پر چاہے عمل کر سکتا ہے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات