معاملات - وراثت ووصیت

South Africa

سوال # 173646

میری ابو کا انتقال ہو گیا ہے میری دادی زندہ ہیں اور دوسری گھر میں اکلی رہتی ہیں کیا میری بھاعی پر فرض ہے کہ ان کے اخراجات کی مد میں کچھ رقم دے ؟ میری پھوپیان ان ک کے اخراجات مل کے اٹھتی ہیں میری کوئی چچا نہیں ہیں۔ اورکیا ہم بہنیں بھی دادی کے لیے کچھ رقم دیں ہم خود کچھ کام نہیں ۔ہمارے شوہر ہمارے اخراجات اٹھاتے ہیں۔

Published on: Oct 17, 2019

جواب # 173646

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:42-26/N=2/1441



اگر آپ کی دادی کے پاس ان کے نان ونفقہ وغیرہ کے لیے کوئی سرمایہ وغیرہ نہیں ہے اور نہ ہی کوئی ذریعہ معاش ہے تو ان کا نان ونفقہ صرف ان کی بیٹیوں ( آپ کی پھوپیوں) پر واجب ہوگا، آپ پر یا آپ کی بہن یا بھائی پر ان کا کچھ نفقہ واجب نہیں ہوگا۔ اور اگر آپ لوگ اپنی خوشی سے کبھی کبھار حسب استطاعت کچھ دیدیا کریں یا بہ طور ہدیہ کچھ بھیج دیا کریں تو اس میں کچھ حرج نہیں؛ بلکہ اچھی بات ہے۔



القسم الأول: الفروع فقط، والمعتبر فیھم القرب والجزئیة أي: القرب بعد الجزئیة دون المیراث…ففي………ابن وابن ابن علی الابن فقط لقربہ، بدائع۔ وکذا تجب في بنت وابن ابن علی البنت فقط لقربھا، ذخیرة (رد المحتار، کتاب الطلاق، باب النفقة، ۵: ۳۵۷، ط: مکتبة زکریا دیوبند)۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات