معاملات - وراثت ووصیت

India

سوال # 169219

کیا فرماتے ہیں علمائے دین شرعی متین مسئلہ ذیل ہے ، ذیل میں میرے بہنوئی سمیر کا انتقال ہوا، اس نے اپنے پیچھے ایک بیوی- نازیہ، اور تین بیٹیاں- زینب، عائشہ، طہانی، خیر سے مرحوم کی۔ ماں زندہ ہے ، کیا ان کا بھی حصہ ہو گا؟ اور دو بھائی ایک بہن بھی ہیں ، ان کا بھی حصہ ہو گا؟

Published on: Mar 18, 2019

جواب # 169219

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:620-501/N=7/1440



اگر سمیر مرحوم نے اپنے وارثین میں صرف ایک بیوی، ماں، ۳/ بیٹیاں ، ۲/بھائی اور ایک بہن کو چھوڑا ہے، اور مرحوم کے باپ اور دادا کا انتقال مرحوم سے پہلے ہی ہوچکا تھا تو مرحوم کا سارا ترکہ بعد ادائے حقوق متقدمہ علی الارث ۳۶۰/ حصوں میں تقسیم ہوگا، جن میں سے ۴۵/ حصے بیوہ (نازیہ) کو، ۶۰/ حصے مرحوم کی ماں کو، ۸۰، ۸۰/ حصے مرحوم کی ہر بیٹی کو ، ۶، ۶/ حصے مرحوم کے ہر بھائی کو اور ۳/ حصے مرحوم کی بہن کو ملیں گے، مسئلہ کی تخریج حسب ذیل ہے:



زوجہ = 45



ام = 60



بنت = 80



بنت = 80



بنت = 80



اخ = 6



اخ = 6



اخت = 3



 



قال اللہ تعالی:﴿ فإن کان لکم ولد فلھن الثمن مما ترکتم الآیة ﴾(سورة النساء، رقم الآیة: ۱۲)، و قال تعالی أیضاً: ﴿ فإن کن نساء فوق اثنتین فلھن ثلثا ما ترک﴾(سورة النساء، رقم الآیة: ۱۱)، وقال تعالی أیضاً: ولأبویہ لکل واحد منھما السدس إن کان لہ ولد (سورة النساء، رقم الآیة:۱۱)، وعن ابن عباسقال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ألحقوا الفرائض بأھلھا فما بقي فھو لأولی رجل ذکر منھم، متفق علیہ (مشکاة المصابیح، باب الفرائض، الفصل الأول، ص ۲۶۳، ط: المکتبة الأشرفیة دیوبند)، فیفرض للزوجة فصاعداً الثمن مع ولد الخ (الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الفرائض، ۱۰:۵۱۱، ۵۱۲، ط: مکتبة زکریا دیوبند)، وللأم …السدس مع أحدھما أو مع اثنین من الإخوة أو من الأخوات فصاعداً من أي جھة کانا الخ (المصدر السابق، ص: ۵۱۴)، والثلثان لکل اثنین فصاعداً ممن فرضہ النصف، وھو خمسة: البنت الخ ( المصدر السابق، ص:۵۱۶)، فیقدم جزء المیت کالابن ثم ابنہ وإن سفل ثم أصلہ: الأب الخ ثم جزء أبیہ: الأخ الخ (المصدر السابق، ص: ۵۱۸- ۵۲۱)، ویصیر عصبة بغیرہ …الأخوات بأخیھن (تنویر الأبصار مع الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الفرائض، ۱۰:۵۲۲)۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات