معاملات - وراثت ووصیت

India

سوال # 168194

میں نازنین مسعود دہلی سے ہوں، میرے سات بھائی ہیں اور میں ان سب کی اکیلی بہن ہوں ، جب میرے ماں باپ زندہ تھے تو انہوں نے سب کو کہا تھا کہ میری جائیداد کے حصوں میں آٹھ حصے ہوں گے ، یہ میری بیٹی نہیں بیٹاہے، اب میرے ماں اور ماں باپ اس دنیا میں نہیں رہے ۔
براہ کرم، بتائیں کہ جائیداد کا بٹواراہ کیسے ہوگا؟ رہنمائی فرمائیں۔

Published on: Jan 31, 2019

جواب # 168194

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 534-480/M=05/1440



صورت مسئولہ میں اگر والدین نے اپنی مملوکہ جائیداد کو آٹھ حصوں میں کرنے کی بات محض زبانی کہی تھی باضابطہ طور پر اپنی زندگی میں حصے الگ الگ دے کر کسی کو مالک و قابض نہیں بنایا تھا تو ایسی صورت میں ضابطہٴ میراث کے مطابق والدین مرحومین کی متروکہ جائیداد، بعد اداء حقوق مقدمہ علی الارث، کل ۱۵/ سہام میں منقسم ہوگی جن میں سے ہر بھائی کو ۲/ سہام اور آپ (بہن) کو ایک سہم ملے گا؛ شرعی تقسیم کا نقشہ:



کل حصے  =       ۱۵



-------------------------



ابن      =       ۲



ابن      =       ۲



ابن      =       ۲



ابن      =       ۲



ابن      =       ۲



ابن      =       ۲



ابن      =       ۲



بنت      =       ۱



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات