معاملات - وراثت ووصیت

India

سوال # 161488

(۱) میرے والد کا انتقال ۷۰/ کی دہائی میں ہوا تھا، اور وہ ایک مکان چھوڑ گئے تھے۔ اب ہم بھائی بہن اس کو بیچ کر اپنا اپنا حصہ لینا چاہ رہے ہیں۔ میرے ۳/ بھائی اور ایک بہن پہلی والدہ سے ہیں جن کا انتقال والد کی زندگی میں ہوگیا تھا۔ میری والدہ سے میں اور میری ایک بہن ہے۔ یعنی جملہ ۴/ بھائی اور ۲/ بہنیں اور والدہ۔
(۲) ہمارے بڑے بھائی شاہین اپنی کم عمری میں ہی پاکستان بھاگ گئے تھے اور والد کی زندگی میں نہیں آئے۔ انتقال کے بعد ایک دو بار آئے مگر اب تقریباً ۱۰-۱۲/ سال سے ان کا کوئی اتا پتا نہیں ہے، اور نہ ہی کوئی رابطہ۔ کیا ہم ان کا حصہ بھی ہم ۳/ بھائیوں اور ۲/ بہنوں میں برابر تقسیم کرسکتے ہیں؟ اس وعدے پر کہ اگر وہ آگئے تو سب ان کا حصہ جو لیا ہے ان کو واپس کردیں گے۔
آپ کے جواب کا منتظر ہوں۔ جزاک اللہ خیر

Published on: May 13, 2018

جواب # 161488

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 1091-959/H=8/1439



(۱) بعد ادائے حقوقِ متقدمہ علی المیراث وصحتِ تفصیلِ ورثہ والدِ مرحوم کا کل مالِ متروکہ اسی (۸۰) حصوں پر تقسیم کرکے دس (۱۰) حصے مرحوم کی موجودہ باحیات بیوی کو او رچودہ چودہ (۱۴-۱۴) حصے مرحوم کے چاروں بیٹوں کو اورسات سات (۷-۷) حصے مرحوم کی دونوں بیٹیوں کو ملیں گے جو بیوی مرحومہ آپ کے والدِ مرحوم کی وفات سے پہلے انتقال کرگئیں ان کا کوئی حصہ والد مرحوم کے ترکہ میں نہیں ہوگا۔



(۲) شاہین بھائی کے حصہ میں جو کچھ مال آئے اس کو محفوظ کرکے رکھیں اور جب ان کے ملنے سے کلی طور پر مایوسی ہو جائے دوبارہ سوال کریں نیز یہ کہ ان کے بیوی بچے ہیں یا نہیں اگر ہیں تو کتنے ہیں پوری تفصیل صاف صحیح واضح انداز پر لکھ کر دوبارہ سوال بھیجیں۔



کل حصے  =       ۸۰



-------------------------



بیوی     =       ۱۰/۱



بیٹا       =       ۱۴



بیٹا       =       ۱۴



بیٹا       =       ۱۴



بیٹا       =       ۱۴



بیٹی       =       ۷



بیٹی       =       ۷



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات