متفرقات - تاریخ و سوانح

Pakistan

سوال # 52479

سوال یہ ہے کہ ہمارے امام اعظم ابوحنیفہ علیہ رحمہ پر آج کل کے نو پیدا عقائد کے حامل بدعتی خرافاتی لوگ تبراء کرتے ہیں۔ کچھ ان میں سے زیادہ رحم کھاتے ہیں تو اتنا کہہ دیتے ہیں کہ جناب امام اعظم ابوحنیفہ علیہ رحمہ ویسے تو نیک پرہیزگار بزرگ تھے مگر حدیث کے تعلق سے ان کو قوت حاصل نہ تھی بلکہ امام صاحب علیہ رحمہ حدیث کی روایت کے بالکل قابل نہ تھے ۔ اور ان کے حافظہ پر بہت سی جرحیں مفسر طور پر موجود ہیں۔ اور ان کی حدیث کے حوالے سے توثیق کا کوئی ایک قول بھی بسند صحیح نہیں موجود، اس پر وہ لوگ چیلینج بھی دیتے ہیں۔میں نے امام اعظم علیہ رحمہ کے دفاع میں بہت کتب پڑھی ہیں مگر ان میں جتنا کچھ بھی اور جو اقوال بھی جمع کر کے لکھے گئے ہیں ان میں سند پر کوئی کلام بالکل موجود نہیں۔ آج تک اتنے امام اعظم کے مقلد گزرے ہیں مگر کسی نے بھی کیا سند پر کلام نہیں کیا کہ راویوں کی توثیق سے سند صحیح اقوال امام اعظم کی توثیق حدیث میں بیان کریں۔ آپ اس پر خصوصی توجہ فرمائیے اور اس پر اگر کوئی عالم ہمارا مفصل کوئی مضمون لکھ دے جس میں چند ایسے اقوال توثیق کے سند پر کلام کر کے لکھ دے تو نہایت سود مند ہو گا

Published on: Apr 21, 2014

جواب # 52479

بسم الله الرحمن الرحيم

Fatwa ID: 921-757/H=6/1435-U

نوپیدا عقائد کے حامل بدعتی خرافاتی بیچارے تو علم وعقل سے پیدل ہوتے ہیں وہ تو جس پر جو کچھ تبرا کریں جس طرح کا چاہیں چیلنج دیتے پھریں سب کچھ قرین قیاس ہے، علم حدیث میں حضرت امام اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللہ تعالی کا کیا مقام ہے اور کس درجہ ان کی سند عالی اور صحیح ہے اس کے لیے فضائل ابی حنیفہ واخبارہ ومناقبہ (ویشتمل علی أحد مسانید الإمام أبي حنیفة الہامة بروایة الموٴلف) تالیف أبی القاسم عبد اللہ ابن محمد ابن احمد بن یحیی ابن الحارث السعدی المعروف بابن العوام المتوفی ۳۳۵ھ (مطبوعہ المکتبة الامدادیہ مکة المکرمہ۔
(ب) عقود الجواہر المنیفة في أدلة الإمام أبي حنیفة مما وافق فیہ الأئمة الستة أوأحدہم (تالیف الإمام السید محمد مرتضی الزبیدی صاحب اتحاف السادة المتقین شرح احیاء علوم الدین للغزالی) کو ملاحظہ کریں ان دو کتابوں کو دیکھنے ہی سے معلوم ہوجائے گا کہ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللہ تعالی رحمة واسعہ کا علوم حدیث میں کتنا اونچا درجہ تھا اور سند کس قدر عالی تھی؟
============
جواب صحیح ہے۔ اور مکانة الإمام أبي حنیفة في علم الحدیث بھی اس سلسلہ میں بہت عمدہ ہے۔ (ن)

واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات