متفرقات - تاریخ و سوانح

INDIA

سوال # 165451

جی حضرت میں درجہ ثانیہ میں پڑھتا ہوں میرے نساب میں حضرت کی القراة الواضحہ ہے جسے ایک استاد پڑھاتے ہیں تو ایک دن استاد کہنے لگے کی اسمے غلطی ہے کی اسمائے اشارہ مبنی ہوتے ہیں لیکن یہاں ھاتان عامل کی وجہ سے ھاتین ہو رہا ہے اور کہا کہ مشیاً کے معنی ہیں پاؤں سے چلنا مگر یہاں القطار کے سبق میں مشی القطار آیا ہے پس حضرت میں تو علمائے دیوبند سے عقیدت رکھتا ہوں اسکی صحیح صورت کیا ہے سمجھا دیجیئے میں استاد سے بھی بد ظن نہیں ہونگا بس آپ اس اشکال کو حل کر دیجیئے ، شاید میں اپنی بات آپکے سامنے صحیح سے رکھ پایا ہوں۔

Published on: Nov 15, 2018

جواب # 165451

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 69-219/L=3/1440



اسماء اشارہ مبنی ہیں، اور ھاتان حالت رفع میں مبنی بر الف ہے اور حالت نصب و جر میں مبنی بر یا ہے۔



مشی یمشی کے معنی آتے ہیں ایک جگہ سے دوسری جگہ جانا / منتقل ہونا / گزرنا؛ لہٰذا یہ کہنا کہ مشی یمشی کے معنی صرف پاوٴں سے چلنے کے ہیں درست نہیں، بیان کردہ معنی کے لحاظ سے مشی القطار کہنا درست ہے، علاہ ازیں زبان کا مدار سماع پرہے اگر عرب والے اس طرح استعمال کرتے ہیں تو مشی القطار پر اعتراض کرنا درست نہیں۔



”ذان و تان“ یستعملان في حالة الرفع مثل: ”جاء ہذان الرجلان ، وھاتان المرأتان“ ، ویستعملان في حالتي النصب والجر مثل: ”أکرم ہذین الرجلین وھاتین المرأتین“ ، وھما في حالة الرفع مبنیان علی الألف، وفي حالة النصب والجر مبنیان علی الباء ۔ ولیسا معربین بالأف رفعاً وبالیاء نصباً وجرّا ۔ (جامع الدروس العربیة: ۱/۹۸، الباب الثاني: الاسم و أقسامہ ، دارالکتب العلمیة ، گوجرات) ۔



مشی یمشي: مرّ (القاموس المحیط: ۲/۱۳۳۴، المکتبة الإمدادیة ، سہارنبور)۔ مشی مشیًا: انتقل من مکان إلی مکان بإرادة (المعجم الوسیط: ۹۰۷، دارالمعارف، دیوبند) ۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات