متفرقات - حلال و حرام

India

سوال # 63950

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین درج ذیل مسئلہ کے بارے میں؟ میں اور میرے کچھ مسلم دوست پرائیویٹ کمپنی میں ملازمت کرتے ہیں جہاں غیر مسلم احباب ہمیں پرساد پیش کرتے ہیں تو کیا ایسی صورت میں ہمارے لیے اس کا کھانا جائز ہوگا یا نہیں؟ کچھ حضرات کا کہنا ہے کہ حرمت صرف ذبیحہ کے سلسلے میں ہے ۔ براہ کرم قران و حدیث کی روشنی میں جواب مرحمت فرمائیں۔ شکریہ، عبدالحق

Published on: Mar 17, 2016

جواب # 63950

بسم الله الرحمن الرحيم

Fatwa ID: 407-329/D=6/1437

پرساد اگر بتوں پر چڑھانے کے بعد تقسیم ہورہا ہے تو اس کا کھانا بھی جائز نہیں اور اگر یونہی کسی خوشی وغیرہ کے موقعہ کی مٹھائی ہے تو کھاسکتے ہیں۔
جو جانور بتوں (غیر اللہ) کی خوشنودی کے لیے ذبح کیا گیاہو اس کا کھانا حرام ہے اسی طرح جو مٹھائی وغیرہ بتوں پر چڑھائی گئی ہو اس کا کھانا بھی جائز نہیں۔

واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات