متفرقات - حلال و حرام

India

سوال # 173684

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ہماری مسجد میں اجتماعی قربانی کا نظم دس سال سے بہت ہی کامیابی سے چل رہا ہے جس میں جمع ہونے والی رقموں کو جانوروں کی خریداری اور قصائی کی اجرت پر نیز صفائی کرنے والوں پراور اسی طرح کے مصارف پر صرف کیا جاتا ہے ، بقیہ پیسوں کو ہماری مسجد کے مکتب کے ضروریات کے فراہم کرنے میں صرف کرنا کیسا ہے ؟ "ہمارے علاقے کے عالم صاحب نے فرمایا کہ ،، قربانی کے باقی ماندہ روپیہ کو شرکاء قربانی کے پاس لوٹانا ضروری، اس وجہ سے امسال ہم نے قربانی دینے والوں سے قیمت وصول کرتے وقت کہدیا کہ بچنے والے پیسوں کو کارخیر میں خرچ کریں گے تو اب اجازت دینے پر استعمال کرسکتے ہیں ؟ اب رہی بات گزشتہ تمام سالوں کے باقی ماندہ پیسوں کے بارے میں کہ ہم نے ان عالم کی رہنمائی کی بناپر جمعہ کی نماز کے موقع پر اجازت لی کہ کار خیر میں صرف کر نے کی تواب اس باقی پیسوں کو ہماری مسجد کے مکتب کے مدرس کی تنخواہوں میں استعمال کرسکتے ہیں یا نہیں؟ مسئلہ کی وضاحت فرما کر شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر دے آمین

Published on: Oct 17, 2019

جواب # 173684

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 112-83/D=02/1441



قربانی کی رقم دینے والوں کا منشاء یہ ہوتا ہے کہ جتنی رقم انہوں نے دی ہے، وہ تمام رقم یا اس کے قریب ترین رقم جانور اور اس کے انتظام میں صرف ہو، لہٰذا اجتماعی قربانی کا نظم کرنے والوں کو چاہئے کہ ان سے لی ہوئی تقریباً تمام رقم یا اس کی قریب ترین مقدار حصے اور اس کے نظم میں صرف کریں، اس کے بعد جو رقم بچ جائے وہ مالکان کا حق ہے، اگر مالکانِ رقوم کارخیر میں صرف کرنے کی اجازت دے دیں، تو منتظمین قربانی کے لئے ان رقوم کو کار خیر میں صرف کرنا درست ہوگا، اسی طرح اگر گذشتہ رقوم کے بارے میں آپ نے مالکان سے اجازت لے لی ہے تو ان کو بھی مسجد کے مکتب کی ضروریات میں صرف کیا جاسکتا ہے، اور مدرس کو تنخواہ بھی دے سکتے ہیں کیوں کہ یہ امدادی رقم ہے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات