متفرقات - حلال و حرام

India

سوال # 160041

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام مسئلہ ذیل کے بارے میں میرے چاچا ٹھیکیدار ہیں ابھی ایک سڑک بنانے کا ٹینڈر لیا ہے کام مکمل ہو گیا، اب گورمینٹ نے نصف رقم ادا کر دی اور نصف رقم پانچ سال بعد اگر روڈ برقرار رہا تو ادا کی جائیگی تو یہ نصف رقم جو پانچ سال کے وقفہ کے بعد ملے گی حکومت اس میں اضافہ کے ساتھ رقم دیتی ہے کیا یہ اضافہ شدہ رقم لینا جائز ہے یا یہ سود کی رقم ہونے کی وجہ سے جائز نہیں؟
جلد از جلد جواب عنایت فرمائیں عین نوازش ہوگی!

Published on: Apr 12, 2018

جواب # 160041

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:714-619/D=7/1439



نصف رقم جو چاچا کو نہیں دی گئی بلکہ گورنمنٹ نے از خود بینک میں جمع کردیا اور چند سالوں بعد گورنمنٹ اضافہ کے ساتھ چاچا کو رقم دیتی ہے تو چاچا کو مع اضافہ کے رقم لینا جائز ہے کیونکہ چچا نے سود کا کوئی معاملہ نہیں کیا گورنمنٹ نے کیا ہے پھر وہ اضافہ کے ساتھ ادا کررہی ہے لہٰذا چچا کے لیے اس اضافہ کے لینے کی گنجائش ہے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات