عبادات - حج وعمرہ

India

سوال # 7092

میرے سسر بیمار ہیں۔ نہ تو وہ چل سکتے ہیں، نہ تو سمجھ سکتے ہیں، نہ تو وہ پہچان سکتے ہیں اورنہ ہی اپنے لیے کچھ کرسکتے ہیں۔ میری ساس ان کی دیکھ بھال کررہی ہیں۔ وہ بستر پر پڑے رہتے ہیں۔ سب کچھ بستر پر کیا جاتاہے۔ انھوں نے حج کی نیت کی تھی۔ میرا سوال یہ ہے کہ: (۱) وہ حج کیسے ادا کرسکتے ہیں؟ (۲) حج بدل کیسے ادا کیا جائے گا؟ (۳) کیا زندہ مسلمان کے کی جانب سے حج بدل ادا کرنا جائز ہے؟او رکون حج بدل ادا کرسکتا ہے؟ (۴) حج بدل کا قاعدہ کیا ہے؟

Published on: Aug 10, 2008

جواب # 7092

بسم الله الرحمن الرحيم

فتوی: 1075=1020/ د


 


اگر آپ کے سسر کے ذمہ حج فرض تھا یا انھوں نے منّت مانی تھی اور ان کے پاس مالی وسعت ہے کہ کسی کو حج کے لیے بھیج سکتے ہیں، تو ایسی صورت میں ان کے ذمہ واجب ہے کہ کسی کو حج بدل کے لیے بھیجیں یا اس کی وصیت کردیں تاکہ بعد وفات کوئی شخص ان کی طرف سے ان کے ترکہ میں سے خرچ لے کر حج ادا کردے۔


(۱) موجودہ حالت میں ان پر خود حج ادا کرنا واجب نہیں ہے، البتہ مذکور الصدر تفصیل کی روشنی میں حج بدل کے لیے بھیجنا واجب ہے، یا وصیت کرنا واجب ہے۔


(۲) حج کرنے والا بجائے اپنی طرف سے نیت کرنے کے ان کی طرف سے حج کرنے کی نیت کرے گا۔


(۳) (الف) ایسا بڑھاپا، ضعف وکمزوری جس کا ختم ہونا بظاہر ممکن نظر نہ آرہا ہو، ایسی حالت میں انسان اپنی زندگی ہی میں دوسرے کو بھیج کر حج بدل کراسکتا ہے، لیکن اگر موت سے پہلے حج کرنے کے بقدر صحت عود کرآئی تو اپنا حج دوبارہ کرنا پڑے گا، اس لیے زندگی میں حج بدل کے لیے بھیجنے میں اس کا لحاظ رکھنا ضروری ہے کہ بیماری یا بڑھاپا ایسا ہو کہ اس سے صحت یاب ہونا متوقع نہ ہو۔


            (ب) اگر صحت سے مایوسی کی حالت میں حج بدل کے لیے کسی کو نہیں بھیجا تو اس کی وصیت کردینا واجب ہے تاکہ بعد وفات کسی دین دار مسائل حج سے اچھی طرح واقفیت رکھنے والے ایسے شخص کو حج بدل کے لیے بھیجا جاسکے جو اپنا حج ادا کرچکا ہو۔ جانے والا شخص آمر کے گھر سے آمر کے خرچ پر اس کی طرف سے حج ادا کرنے کی نیت سے حج ادا کرے گا۔ حج کرنے کا بقیہ طریقہ وہی ہے جو عام لوگوں کے لیے حج کرنے کا ہے۔ مزید کوئی بات معلوم کرنی ہوگی تو دوبارہ معلوم کرلیں گے۔


واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات