عبادات - حج وعمرہ

India

سوال # 6791

میں ایک بزنس مین ہوں۔ دوسال سے میرا دو لاکھ روپیہ ایک دکاندار پر باقی ہے۔ وہ بہت پیسہ والا بھی ہے لیکن میرا روپیہ واپس نہیں کررہا ہے بس وعدہ کرتا ہے۔ وہ ہر سال حج کرنے جاتا ہے۔ تو کیا ایک قرض داراپنے قرض ادا کئے بغیر حج کرسکتا ہے؟

Published on: Aug 21, 2008

جواب # 6791

بسم الله الرحمن الرحيم

فتوی: 677=677/ م


 


قرض کی ادائیگی حقوق العباد میں سے ہے، اس کو حج سے مقدم کرنا چاہیے، وعدہ خلافی کرنا گناہ اور نفاق کی علامت ہے، اورجو قرض ادا کرنے پر قادر ہو تو بلاوجہ ٹال مٹول کرنا اور قرض ادا نہ کرنا، یہ ظلم ہے، قرض ادا کیے بغیر بھی حج ادا ہوجاتا ہے، لیکن قرض کی ادائیگی مقدم ہے۔


واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات