عبادات - حج وعمرہ

India

سوال # 6041

میں اس سال حج کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں۔ کچھ سالوں پہلے میں نے مکان کا لون لیا تھا اورمیں اب بھی اصل مال سود کے ساتھ ادا کررہا ہوں۔ مجھے اب بھی 155,000/-روپیے اصل رقم کے جمع کرنے ہیں۔ میرا اثاثہ اس مکان کو بھی شامل ہے جس کو خریدنے کے لیے میں نے ہاؤسنگ لو ن لیا تھا ،جس کو میں ادا کررہا ہوں، اور دوسرے طرح کاپیسہ میرے پاس نقد نہیں ہے، لیکن اگر میں اپنی موجودہ ملازمت ترک کردوں تو مجھے مل جائیں گے (یا میری موت کی شکل میں) جیسے پی ایف، صلہ، پیرانہ سالی کی پنشن وغیرہ۔ یہ مکمل پی ایف، صلہ اور پیرانہ سالی کی پنشن وغیرہ کی رقم ،ہاؤسنگ لون کی رقم 155,000/-سے زیادہ ہے ۔ کیا مکان کا لون ادا کرنے کے بجائے حج ادا کرنا جائزہے؟ یا مجھے پہلے مکان کا لون ادا کرنا ہوگا اس کے بعد حج اداکرنا ہوگا؟

Published on: Jul 17, 2008

جواب # 6041

بسم الله الرحمن الرحيم

فتوی: 970=904/ د


 


نقد روپئے آپ کے پاس موجود نہیں ہیں تو آپ پر حج فرض نہیں ہے، پی، ایف، صلہ اور پیرانہ سالی پنشن وغیرہ ملازمت پوری ہوجانے یا ترک کردینے پر ملے گی تو جب ملے گی اس وقت آپ کی موجودہ صورت حال کو دیکھتے ہوئے حکم شرعی لاگو ہوگا، اگر ادائیگی قرض کے بعد مدت حج کے نفقہ کے علاوہ آمد ورفت کے لیے کرایہ کی رقم آپ کے پاس بچے گی تو حج فرض ہوگا ورنہ نہیں۔


واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات