عبادات - حج وعمرہ

India

سوال # 3426

میری نانی (تقریاً اسی سالہ) حج کے لیے جانا چاہتی ہیں، نانا کا سات آٹھ سال پہلے انتقال ہوگیا تھا، ان کے تین بیٹے ہیں جو اپنا کام کی وجہ سے ساتھ نہیں جارہے ہیں۔ تو کیا میرے نانا کے سگے بھتیجے جو 45-50 سال کے ہیں جو اپنی اہلیہ کے ساتھ حج کو جارہے ہیں، ان کے ساتھ حج کے لیے جاسکتی ہیں؟ ان حالات میں ان پر حج فرض ہے یا نہیں؟ (مالی اعتبار سے بیٹے ٹھیک ہیں) اگر ہے تو کیا ان کا حج قبول ہوگا؟ اگر وہ اپنے بھتیجے کے ساتھ جائیں؟ اگر نہیں جاسکتیں تو اور کوئی شکل حج ادا کرنے کی؟ جب کہ انھوں نے حج کمیٹی پنجاب کے ذریعہ رقم جمع کردی ہے۔ تیاری بہی کررہی ہیں؟

Published on: Jan 15, 2008

جواب # 3426

بسم الله الرحمن الرحيم

فتوی: 70/ ک


 


عورت کے اوپر حج فرض اس وقت ہوتا ہے جب آمد و رفت کا خرچ نیز محرم کا ساتھ میسر ہو۔ آمد و رفت کے خرچ کے بقدر اس کے پاس رقم نہیں ہے تو حج فرض نہیں ہوتا۔ اور اگر آمد و رفت کے خرچ کے بعد رقم ہے مگر کسی محرم کا انتظام نہیں ہے تو بھی حج فرض نہیں ہوتا، ایسی صورت میں اُسے رقم محفوظ کرکے رکھ دینا چاہیے اور وصیت کردینا چاہیے کہ اس کے انتقال کے بعد اس کی طرف سے حج بدل کسی نیک صالح مسائل سے واقفیت رکھنے والے شخص سے کرادیا جائے۔


بغیر محرم کے سفر حج کرنے سے حدیث میں منع کیا گیا ہے، شوہر کا بھتیجا عورت کے لیے محرم نہیں ہے۔ اس لیے ایسی حالت میں اگر عورت حج کو جائے گی تو گنہ کار ہوگی۔البتہ حج فرض ادا ہوجائے گا۔ آپ کی نانی جو ۸۰ سال کی ضعیفہ ہیں ان کو بھی اپنے شوہر کے بھتیجے کے ساتھ حج کو نہیں جانا چاہیے البتہ بعض علماء ایسی ضعیفہ کو گنجائش بھی دیتے ہیں، لیکن نہ جانا بہتر ہے۔


واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات